Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4556

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عِيسَى بْنِ حَمْزَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُكَيْمٍ وَبِهٖ حُمْرَةٌ فَقُلْتُ: أَلَا تُعَلِّقُ تَمِيمَةً؟ فَقَالَ: نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِلَ إِليهِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عيسى بن حمزة قال: دخلت على عبد الله بن عكيم وبه حمرة فقلت: ألا تعلق تميمة؟ فقال: نعوذ بالله من ذلك قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من تعلق شيئا وكل إليه» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے عیسیٰ ابن حمزہ سے فرماتے ہیں کہ میں عبدالله ابن عکیم کے پاس گیا ۱∞؎انہیں سرخی تھی ۲؎تو میں نے کہا کہ آپ تعویذ کیوں نہیں باندھتے تو فرمایا کہ ہم اس سے الله کی پناہ مانگتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو کوئی چیز لٹکائے (باندھے)تو اس کی طرف سونپ دیا جاتا ہے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎عیسیٰ ابن حمزہ تابعی ہیں،عبدالله ابن عکیم کی صحابیت میں اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ وہ بھی تابعی ہیں انہوں نے حضور کا زمانہ پایا مگر زیارت نہ کی ان سے کوئی روایت منقول نہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ ان کا نام عیسیٰ ابن عبدالرحمن ابن یعلیٰ ہے یا عیسیٰ ابن یونس ابن اسحاق عیسیٰ بڑے متقی تھے،ایک سال حج کرتے تھے اور ایک سال جہاد،۱۸۷ھ؁∞ ایک سوستاسی میں وفات پائی۔(مرقات)۲؎حمرہوہ بیماری ہے جس میں چہرہ اور جسم پر سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں اسے پنجابی میںقینکہتے ہیں اس بیماری میں بہت قسم کے دم کیے جاتے ہیں۔
۳
؎یعنی اگرچہ یہ کام جائز تو ہیں مگر عمل کے خلاف ہیں اس لیے ان سے بچنا بہتر ہے یہ ایسا ہی ہے جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی حکومت کا طلبگار ہوکر اسے حاصل کرے تو وہ حکومت اس کے سپرد کردی جاوے گی اورجو مجبورًا حاکم بنادیا جاوے تو اس کی مدد کی جاوے گی۔(مرقات)ہم ابھی دواؤں اور دم میں فرق بیان کرچکے ہیں کہ دوا علاج میں توکل کیوں قائم رہتا ہے اور اس دم وغیرہ میں کیوں جاتا رہتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4556