Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4549

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ أَبَاهَا كَانَ يُنْهِي أَهْلَهٗ عَنِ الْحِجَامَةِ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَيَزْعُمُ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ يَوْمُ الدَّمِ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَرْقَأُ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن كبشة بنت أبي بكرة أن أباها كان ينهي أهله عن الحجامة يوم الثلاثاء ويزعم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أن يوم الثلاثاء يوم الدم وفيه ساعة لا يرقأ» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کبشہ بنت ابی بکرہ سے ۱∞؎کہ ان کے والد اپنے گھر والوں کو منگل کے دن فصد سے منع کرتے تھے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ منگل کا دن خون کا دن ہے ۲؎اور اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں خون ٹھہرتا نہیں ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں کیسہ ہے ی اور سین سے،بعض میںکبشہہے ب اور شین سے ان کے حالات معلوم نہ ہوسکے،یہ تابعیہ ہیں،ان کے والد ابوبکرہ صحابی ہیں۔
۲
؎کہ قابیل نے ہابیل کو منگل کے دن ہی قتل کیا اور جناب حوا کو منگل کے دن ہی حیض شروع ہوا گویا یہ دن خون کی ابتداء کا ہے یا اس دن میں خون جوش مارتاہے فصد سے بہت زیادہ بہ جاوے گا۔(مرقات)۳؎کیونکہ اس دن کی ہر گھڑی میں احتمال ہے کہ شاید وہ ہی گھڑی ہو لہذا اس دن فصد لوہی نہیں کہ اس میں ہی سلامتی ہے اگر اس گھڑی میں فصد لی گئی تو خون ٹھہرے گا نہیں بالکل نکل جاوے گا اور اس مریض کی موت واقع ہوجانے کا خطرہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4549