Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4537

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهَا: «بِمَ تَسْتَمْشِينَ؟» قَالَت: بِالشُّبْرمِ قَالَ: «حارٌّ حارٌّ» . قَالَتْ: ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ شَيْئًا كَانَ فِيهِ الشِّفَاءُ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ فِي السَّنَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ

وعن أسماء بنت عميس أن النبي صلى الله عليه وسلم سألها: «بم تستمشين؟» قالت: بالشبرم قال: «حار حار» . قالت: ثم استمشيت بالسنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «لو أن شيئا كان فيه الشفاء من الموت لكان في السنا» . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث حسن غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت عمیس سے ۱∞؎کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم کس چیز سے جلاب لیتی ہو ۲؎وہ بولیں شبرم سے۳؎فرمایا گرم ہے گرم ہے فرماتی ہیں پھر میں نے سناء سے جلاب لیا۴؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی چیز ہوتی جس میں موت سے شفاء ہو تو سناء میں ہوتی،ترمذی ابن ماجہ اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ پہلے حضرت جعفر ابن ابی طالب کے نکاح میں تھیں ان کے ساتھ ہجرت کرکے حبشہ گئیں وہاں ہی ان سے محمد عبدالله اور عون پیدا ہوئے، پھر مدینہ منورہ ہجرت کرکے آئیں،حضرت جعفر کی شہادت کے بعد ابوبکر صدیق سے نکاح کیا ان سے محمد پیدا ہوئے،حضرت صدیق اکبر کی وفات کے بعد حضرت علی کے نکاح میں آئیں ان سے یحیی ابن علی پیدا ہوئے بڑی درجہ والی صحابیہ ہیں،چنانچہ آپ سے حضرت عبدالله ابن جعفر،عمر ابن خطاب،عبدالله ابن عباس،ابو موسیٰ اشعری،عبدالله ابن شداد جیسے صحابہ کرام نے احادیث روایت کیں رضی الله عنہم اجمعین۔
۲
؎یہ لفظ بنا ہےمشیسے بمعنی چلنا جلاب کومشیاس لیے کہتے ہیں کہ اس سے پیٹ چلتے ہیں یا اس سے پینے والا آدمی بار بار چل کر پاخانہ جاتا ہے۔
۳
؎شبرمحجاز کی خاص دوا ہے چنے کی دانوں کی طرح ہوتی ہے پکا کر اس کا پانی پینے سے دست لگ جاتے ہیں۔
۴
؎سناء حجاز مقدس کی مشہور دوا ہے دست آور ہے بے ضرر ہے مکہ مکرمہ کی سنا اپنی خوبیوں میں بہت مشہور ہے اسی لیے اسے سناء مکی کہا جاتا ہے۔صفراوی سوداوی بلغمی،مادہ کو دستوں کے ذریعہ نکالنے میں بے مثال ہے سوداوی وسوسوں کی دافع ہے۔ (اشعہ)بعض روایات میں سناء زیرہ کی بہت تعریف آئی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4537