Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4520

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهٗ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: السَّامُ: الْمَوْتُ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ: الشُّونِيزُ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي هريرة أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ي الحبة السوداء شفاء من كل داء إلا السام قال ابن شهاب: السام: الموت والحبة السوداء: الشونيز(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ انہوں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کلونجی میں موت کے سوا ہر بیماری سے شفا ہے ۱∞؎ابن شہاب نے فرمایا کہ سام موت ہے اور کالا دانہ کلونجی ہے۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎ہر مرض سے مراد ہر بلغمی اور رطوبت کے امراض ہیں کیونکہ کلونجی گرم اور خشک ہوتی ہے لہذا مرطوب اور سردی کی بیماریوں میں مفید ہوگی۔(اشعہ)۲؎حبۃ سوداءتین دواؤں کا نام ہے: سیاہ زیرہ، رائی ،کلونجی۔اس شرح سے معلوم ہوا کہ یہاں کلونجی مراد ہے،یہ فرمان عالی ایسا ہے جیسے قرآن کریم کا فرمان"اُوۡتِیَتْ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ"یا جیسے"تُدَمِّرُ کُلَّ شَیۡءٍۭ"کہکل شیئسے مراد عام چیزیں ہیں،یوں ہی یہاں مراد عرب کی عام بیماریاں ہیں۔(مرقات)یعنی کلونجی عرب کی عام بیماریوں میں مفید ہے۔خیال رہے کہ احادیث شریفہ کی دوائیں کسی حاذ ق طبیب کی رائے سے استعمال کرنی چاہیں صرف اپنی رائے سے استعمال نہ کریں کہ ہمارے مزاج اہلِ عرب کے مزاج سے جداگانہ ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4520