Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4572

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي كَبْشَة الْأَنْمَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ عَلٰى هَامَتِهٖ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ قَالَ مَعْمَرٌ:فَاحْتَجَمْتُ أَنَا مِنْ غَيْرِ سُمٍّ كَذٰلِكَ فِي يَافُوخِي فَذَهَبَ حُسْنُ الْحِفْظِ عَنِّي حَتّٰى كُنْتُ أُلَقَّنُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ. رَوَاهُ رَزِيْنٌ

وعن أبي كبشة الأنماري: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم على هامته من الشاة المسمومة قال معمر:فاحتجمت أنا من غير سم كذلك في يافوخي فذهب حسن الحفظ عني حتى كنت ألقن فاتحة الكتاب في الصلاة. رواه رزين

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابوکبشہ انماری سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کھوپڑی پر زہریلی بکری کی وجہ سے فصد کروائی ۱∞؎معمر کہتے ہیں ۲؎کہ پھر میں نے بغیر زہر کے اسی طرح اپنی کھوپڑی میں فصد کرالی تو میرے حافظہ کی عمدگی جاتی رہی حتی کہ مجھے نماز میں سورۂ فاتحہ بتائی جانے لگی۳؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎خیبر میں ایک یہودیہ نے بکری کے گوشت میں حضور انور کو زہر دیا زہر بہت سخت تھا یہ گوشت بشر ابن براہ ابن معرور نے بھی کھایا وہ وہاں ہی وفات پا گئے،یہ فقیر ان کی قبر انور پر حاضر ہوا جو خیبر میں ہے۔ حضور نے حکم دیا تو وہ گوشت جلاکر دفن کردیا گیا اور حضور انور نے اس یہودیہ کو معافی دے دی یہاں وہ واقعہ بیان ہورہا ہے حضور انور نے اس زہر کا اثر دفع کرنے کیلئے فصد لی۔
۲
؎معمر اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں،آپ کا نام معمر ابن راشد ہے،کنیت ابو عروہ ہے،ازدی ہیں،یمن کے بڑے عالم ہیں،اٹھاون سال عمر ہوئی، ۵۳؁∞ ترپن میں وفات پائی،تابعین میں سے ہیں،دس ہزار حدیثیں آپ کو حفظ تھیں۔ (مرقات)۳؎اس سے مقصود ہے حافظہ کی انتہائی خرابی کا بیان۔خیال رہے کہ حضرت معمر نے بلا ضرورت اور بے وقت بے موقعہ سر سے بہت خون نکلوادیا اس لیے آپ کو یہ مرض لاحق ہوا اور وہ بھی عارضی تھا پھر صحت ہوگئی ورنہ حدیث شریف میں ہے کہ سر میں فصد لینے میں سات بیماریوں سے شفا ہے: سر درد،جنون،جذام،برص، زیادہ نیند،درد داڑھ،آنکھ تلے اندھیرا ہوجانا مگر یہ فوائد جب ہیں جب ضرورۃً اورصحیح وقت میں فصد لے اس لیے فصد کسی قابل طبیب کی رائے سے لینا چاہیے ورنہ نقصان کا اندیشہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4572