Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4533

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ فَإِنَّ اللّٰهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ : هٰذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا تكرهوا مرضاكم على الطعام فإن الله يطعمهم ويسقيهم» . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي : هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو ۱∞؎کیونکہ انہیں الله تعالٰی کھلاتا ہے۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎بعض بیمار کھانے پینے سے نفرت کرتے ہیں تیمارداروں کو چاہیے کہ انہیں اس پر مجبور نہ کریں اس نہ کھانے میں ان کے لیے بہتری ہوتی ہے۔
۲
؎یعنی رب تعالٰی انہیں صبربھی دیتا ہے اور قدرتی قوت و طاقت بھی بخشتا ہے،بدن کی قوت ارادہ الٰہی سے ہے نہ کہ محض کھانے سے۔خیال رہے کہ یہ ہی الفاظ حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے روزہ وصال کے لیے بھی ارشاد فرمائے ہیں وہاں کچھ مطلب ہی اور ہے۔(مرقات)وہاں حق تعالٰی حضور کو غیبی روزی عطا فرماتا ہے، بعض صوفیاء کرام نے خواب میں کوئی چیز کھائی بیدار ہونے پر شکم سیر تھے اور کھانے کی خوشبو منہ سے ہاتھوں سے آتی تھی اسی لیے حضور نے اپنے لیے فرمایاابیت عند ربی یطعمنی ویسقینیوہاںابیت عندربیہے یہاں یہ عبارت نہیں ہے اس میں یہ ہی فرق ہے لہذا حضور صلی الله علیہ وسلم کو اور آپ کے اس قرب خصوصی کو بیمار پر قیاس کرنا سخت غلطی ہے کہاں یہ مریض کہاں آقائے دو جہان۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4533