Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4529

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهٰى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّقٰى فَجَاءَ آلُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّهٗ كَانَتْ عِنْدَنَا رُقْيَةٌ نَرْقِي بِهَا مِنَ الْعَقْرَبِ وَأَنْتَ نَهَيْتَ عَنْ الرُّقٰى فَعَرَضُوهَا عَلَيْهِ فَقَالَ: مَا أَرٰى بِهَا بَأْسًا مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَنْفَعَ أَخَاهُ فَلْيَنْفَعْهُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرقى فجاء آل عمرو بن حزم فقالوا: يا رسول الله إنه كانت عندنا رقية نرقي بها من العقرب وأنت نهيت عن الرقى فعرضوها عليه فقال: ما أرى بها بأسا من استطاع منكم أن ينفع أخاه فلينفعه . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دم پھونک سے منع فرمایا تو عمرو ابن حزم کے گھر والے آئے ۱∞؎بولے یارسول الله ہمارے پاس دم ہے جسے ہم بچھو سے دم کرتے ہیں اور آپ نے جھاڑ پھونک سے منع فرمادیا ۲؎چنانچہ انہوں نے وہ حضور پر پیش کیا تو فرمایا کہ اس میں کوئی حرج ہم نہیں دیکھتے تم میں سے جو اپنے بھائی کو نفع پہنچاسکے وہ اسے نفع پہنچائے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎عمرو ابن حزم کی کنیت ابو الضحاک ہے انصاری ہیں غزوہ خندق اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک ہوئے غزوہ خندق میں پندرہ سالہ تھےحضور انور نے انہیں بحران کا حاکم بنایاتھا، ۱۰؁∞ دس میں،آپ کی وفات ۵۳؁∞ ترپن میں مدینہ منورہ میں ہوئی، ان کے اہلِ خانہ یعنی بھائی برادر بچے حضورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
۲
؎یعنی ہم سب لوگ بچھو وغیرہ کے کاٹے پر دم کردیتے ہیں تو اس سے فائدہ ہوتا ہے اگر اسے بند کردیں تو ایک فیض بند ہوجاوے گا حضور نے دعا سنانے کا حکم دیا۔
۳
؎غالبًا وہ عربی زبان کے الفاظ تھے اگرچہ قرآنی آیت یا دعاء ماثورہ نہ تھی مگر اس کے الفاظ شرکیہ بھی نہ تھے۔ ہم نے بعض ورد اردو زبان کے دیکھے بہت زود اثر،آدھا سیسی کے لیے یہ دعا بڑی مفید ہے۔کالی چڑی کلچڑی کالا پھل کھائے اٹھو محمد آکھ دو کہ آدھا سیسی جائے،اس دعا میں کوئی لفظ شرک و کفر یا ناجائز نہیں۔بچہ پیدا ہونے میں اگر دشواری ہو تو یہ کوری ٹھیکری پر لکھ کر زچہ کے سر پر رکھی جاوے سر پر چینی کمر میں گھڑا نکل پڑی یا نکل پڑا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4529