Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4548

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ احْتَجَمَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ وَتِسْعَ عَشْرَةَ وَإِحْدٰى وَعِشْرِينَ كَانَ شِفَاءً لَهٗ مِنْ كُلِّ دَاء . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

وعن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من احتجم لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين كان شفاء له من كل داء . رواه أبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ جو سترہ،انیس،اکیس تاریخ کو فصد لے تو ہر بیماری سے شفا ہوگی ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎بیماریوں سے مراد وہ ہی بیماریاں ہیں جن کا تعلق فصد سے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ دواؤں علاجوں کے اثر کا تعلق دنوں اور وقتوں سے بھی ہے جیسے کہ اس کا تعلق زمانوں اور مقامات سے ہے۔ایک دوا ایک موسم میں ایک جگہ مفید ہوتی ہے وہ ہی دوا دوسری جگہ دوسرے موسم میں مضر،ٹھنڈی چیز میں گرم موسم گرم ملک میں مفید ہیں اور سرد موسم سرد ملک میں مضر۔یہاں اشعہ میں فرمایا کہ چاند کی شروع تاریخوں میں خون میں بہت جوش ہوتا ہے اور آخری تاریخوں میں بہت جمود و سکون لہذا درمیان مہینہ فصد کے لیے تجویز ہوا جب خون نہ بہت جوش میں ہو نہ بالکل سکون میں تاکہ بقدر حاجت نکلے نہ زیادہ نکلے نہ کم،جنہوں نے چاند کی حرکتوں پر سمندر کا جوار بھاٹا دیکھا ہے وہ اسے بلا تامل مان لیں گے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4548