Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4555

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَنْ اكْتَوٰى أَوِ اسْتَرْقٰى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه

وعن المغيرة بن شعبة قال: قال النبي صلى الله عليه وسلممن اكتوى أو استرقى فقد برئ من التوكل. رواه أحمد والترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں فرمایانبی صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو داغ لگائے یا جھاڑ پھونک کرے وہ توکل سے دور ہوگیا ۱∞؎(احمد، ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگرچہ داغ لگانا دم کرنا جائز ہے مگر متوکلین کی شان سے بعید ہے۔خیال رہے کہ زمانہ جاہلیت میں داغ اور دم کو دفع مرض کے لیے مستقل علت مانا جاتاتھا اس لیے حضور انور نے اس کو توکل کے خلاف قرار دیا۔ دواؤں کے متعلق یہ عقیدہ کسی کا نہ تھا اس لیے دوا خلاف توکل نہیں اسی لیے حضور انور نے متوکلین کی صفت میں داغ نہ کرنا،رقیہ نہ کرنا بیان فرمایا دوا نہ کرنے کا ذکر نہ کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4555