Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4561

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِاللهِ قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ فَقَالَ: «أَلَا تُعَلِّمِينَ هٰذِهٖ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ؟» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن الشفاء بنت عبدالله قالت: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا عند حفصة فقال: «ألا تعلمين هذه رقية النملة كما علمتيها الكتابة؟» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے شفاء بنت عبدالله سے ۱∞؎سے فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے جب کہ میں حفصہ کے پاس تھی تو فرمایا کہ تم انہیں نملہ کا دم کیوں نہیں سکھاتیں ۲؎جیسے تم نے انہیں لکھنا سکھایا ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام لیلی ہے،شفاءلقب قرشیہ عدویہ ہیں،مہاجرین اولین میں سے ہیں،بڑی عاملہ عاقلہ بی بی تھیں،اکثر حضور صلی الله علیہ وسلم آپ کے ہاں دوپہر کا آرام فرماتے تھے حتی کہ آپ نے حضورکے لیے ایک بستر علیٰحدہ رکھا تھا۔(مرقات و اشعہ)۲؎نملہباریک دانے ہوتے ہیں جو بیمار کی پسلیوں پر نمودار ہوتے ہیں جس سے مریض کو بہت سخت تکلیف ہوتی ہے اسے تمام جسم پر چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوتی ہیں اس لیے اسے نملہ کہتے ہیں۔بعض کا خیال ہے کہ اس کا نام موتی جھرہ ہے مگر یہ درست نہیں کہ موتی جھرہ تمام جسم پر ہوتا ہے حضرت شفاء مکہ معظمہ میں اس مرض کا بہترین دم کرتی تھیں آپ وہاں اس دم کی وجہ سے مشہور تھیں اس دم کے الفاظ مرقات نے یہاں بیان کیے آخری عبارت اس کی یہ ہے"العروس تنتعل وتخضب تکتحل وکل شیئ تفتعل غیر انہا لاتعص الرجل"یعنی دلہن جوتے پہنے،خضاب لگائے،سرمہ لگائے،سب کچھ کرے خاوند کی نافرمانی نہ کرے۔بی بی حفصہ نے حضور کا ایک راز ظاہر فرمادیا تھا اس لیے فرمایا کہ انہیں نملہ کا دم سکھاؤ جس میں خاوند کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔
۳
؎یعنی تم نے جناب حفصہ کو لکھنا تو سکھادیا جو عورتوں کے لیے بہتر نہیں اور نملہ کا دم نہ سکھایا جو فائدہ مند ہے لہذا اس حدیث سے عورتوں کو لکھنے کی تعلیم دینے کی اجازت نہیں عورتوں کو لکھنے کی تعلیم دینا مکروہ ہے خصوصًا اس زمانہ میں جب کہ عورتوں کی آزادی حد سے بڑھ چکی ہے،اس کی ممانعت صریحی حدیث میں وارد ہےلاتعلموھن بالکتابۃعورتوں کو لکھنا نہ سکھاؤ،بعض شارحین نے فرمایا کہ عوام عورتوں کو یہ تعلیم ممنوع ہے ازواج مطہرات کے لیے جائز تھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔(مرقات اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4561