Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4531

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْعَيْنُ حَقٌّ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابَقَ الْقَدَرَ سَبَقَتْهُ الْعَيْنُ وَإِذَا اسْتُغْسِلْتُمْ فَاغْسِلُوا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «العين حق فلو كان شيء سابق القدر سبقته العين وإذا استغسلتم فاغسلوا» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ نظر حق ہے ۱∞؎اگر کوئی چیز تقدیر سے بڑھ سکتی ہے تو اس پر نظر بڑھ جاتی ہے ۲؎اور جب تم دھلوائے جاؤ تو دھو دو ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نظر بد کا اثر برحق ہے اس سے منظور کو نقصان پہنچ جاتاہے۔
۲
؎یعنی اس کا اثر اس قدر سخت ہے کہ اگر کوئی چیز تقدیر کا مقابلہ کرسکتی تو نظر بد کرلیتی کہ تقدیر میں آرام لکھا ہو مگر یہ تکلیف پہنچادیتی مگر چونکہ کوئی چیز تقدیر کا مقابلہ نہیں کرسکتی اس لیے یہ نظر بد بھی تقدیر نہیں پلٹ سکتی۔
۳
؎یعنی اگر کسی نظرے ہوئے کو تم پر شبہ ہو کہ تمہاری نظر اسے لگی ہے اور وہ دفع نظر کے لیے تمہارے ہاتھ پاؤں دھلواکر اپنے پر چھینٹا مارنا چاہے تو تم برا نہ مانو بلکہ فورًا اپنے یہ اعضاء دھوکر اسے دے دو نظر لگ جانا عیب نہیں نظر تو ماں کی بھی لگ جاتی ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عوام میں مشہور ٹوٹکے اگر خلاف شرع نہ ہوں تو ان کا بند کرنا ضروری نہیں دیکھو،نظر والے کے ہاتھ پاؤں دھوکر منظور کو چھینٹا مارنا عرب میں مروج تھا حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس کو باقی رکھا، ہمارے ہاں تھوڑی سی آٹے کی بھوسی تین سرخ مرچیں منظور پر سات بار گھما کر سرسے پاؤں تک پھر آگ میں ڈال دیتے ہیں اگر نظر ہوتی ہے تو بھس نہیں اٹھتی اور رب تعالٰی شفاء دیتا ہے جیسے دواؤں میں نقل کی ضرورت نہیں تجربہ کافی ہے ایسے ہی دعاؤں اور ایسے ٹوٹکوں میں نقل ضروری نہیں خلاف شرع نہ ہوں تو درست ہیں اگرچہ ماثورہ دعائیں افضل ہیں۔ حضرت عثمان غنی نے ایک خوبصورت تندرست بچہ دیکھا تو فرمایا اس کی ٹھوڑی میں سیاہی لگا دو تاکہ نظر نہ لگے،حضرت ہشام ابن عروہ جب کوئی پسندیدہ چیز دیکھتے تو فرماتےماشاءالله لا قوۃ الا باالله۔علماء فرماتے ہیں کہ بعض نظروں میں زہریلا پن ہوتا ہے جو اثر کرتاہے۔(مرقات)اس نظر کی پوری بحث تفسیر کبیر سورۂ یوسف میں"یٰبَنِیَّ لَاتَدْخُلُوۡا مِنۡۢ بَابٍ وّٰحِدٍ وَّادْخُلُوۡا" کی تفسیر میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4531