Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4540

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلْمٰى خَادِمَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: مَا كَانَ أَحَدٌ يَشْتَكِي إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعًا فِي رَأْسِهٖ إِلَّا قَالَ: احْتَجِمْ وَلَا وَجَعًا فِي رِجْلَيْهِ إِلَّا قَالَ: اخْتَضِبْهُمَا . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن سلمى خادمة النبي صلى الله عليه وسلم قالت: ما كان أحد يشتكي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وجعا في رأسه إلا قال: احتجم ولا وجعا في رجليه إلا قال: اختضبهما . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی خادمہ سلمٰی رضی الله عنہا سے ۱∞؎فرماتی ہیں کہ کوئی شخص رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سر کے دردکی شکایت نہ کرتا مگر آپ فرماتے کہ پچھنے لگاؤ اور نہ کوئی پاؤں کے درد کی شکایت کرتا مگر آپ فرماتی ان میں خضاب کرو ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صفیہ بنت عبدالمطلب یعنی حضور کی پھوپھی کی لونڈی ہیں حضور کے غلام ابورافع کی بیوی صاحبہ ہیں حضرت فاطمہ زہرا کی اولاد اور حضرت ابراہیم ابن رسول الله کی دایہ ہیں جلیل القدر صحابیہ ہیں رضی الله عنہا۔
۲
؎ان حضرات کے سر کے درد زیادتی خون سے اورپاؤں کا درد گرمی سے ہوتا ہوگا۔معلوم ہوا کہ مرد کو پاؤں کے تلووں میں مہندی لگانا درست ہے جب کہ دفع گرمی کے لیے ہو۔یہاں خضاب سے مراد مہندی سے خضاب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4540