Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4528

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى فِي بَيْتِهَا جَارِيَةً فِي وَجْهِهَا سَفْعَةٌ تَعْنِي صُفْرَةً فَقَالَ: «اسْتَرْقُوا لَهَا فَإِنَّ بِهَا النَّظْرَةَ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أم سلمة أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى في بيتها جارية في وجهها سفعة تعني صفرة فقال: «استرقوا لها فإن بها النظرة»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم نے ان کے گھر میں ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر زرد چھائیں تھیں یعنی زردی ۱∞؎تو فرمایا کہ اس کے لیے دم کردو کہ اسے نظر ہے ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎سفعہکے بہت معنی ہیں: نشانی،طمانچہ،نظر بد،جلنا آگ لہو،چہرے کی سیاہی مائل بہ سرخی اس لیے یہاں یہ شرح فرمائی۔
۲
؎جن کی نظر ہے یا انسان کی،علماء فرماتے ہیں کہ جنات کی نظر انسانی نظر سے سخت تر ہوتی ہے۔(اشعہ)مرقات نے فرمایا کہ جنات کی نگاہ نیزے سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔جائز دعاؤں سے دم بھی جائز ہے اس دم پر اجرت لینا بھی درست ہے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4528