Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4525

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحُمّٰى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة ورافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الحمى من فيح جهنم فأبردوها بالماء»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ اور رافع ابن خدیج سے ۱∞؎وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ بخار دوزخ کی بھڑک ہے ۲؎تو اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت رافع ابن خدیج مشہور صحابی ہیں،جنگ احد میں آپ تیر سے زخمی ہوئے تو آپ سے حضور انور نے فرمایا کہ میں قیامت میں تمہاری گواہی دوں گا اس وقت زخم بھر گیا،پھر عبدالملک ابن مروان کے زمانہ میں دوبارہ ہرا ہوگیا اور اسی سے ۷۳ھ؁∞ تہتر میں وفات ہوئی،چھیاسی سال عمر پائی۔
۲
؎کہ جیسے دوزخ کی آگ فقط ظاہری جسم پر ہی نہ ہوگی بلکہ اندرون بدن میں بھی"تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْـِٕدَۃِ"۔ یوں ہی بخار کی تپش دل و جگر پربھی ہوتی ہے لہذا ا س آگ کے مشابہ ہے۔
۳
؎یعنی صفراوی بخار والے کو ٹھنڈا پانی پلاؤ،اس سے غسل دو یا کپڑا تر کرکے سر اور بعض اعضاء پر رکھو یہ علاج ہر بخار کے لیے نہیں بلکہ خاص بخاروں کے لیے ہے جو عمومًا اہل عرب کو ہوتا ہے،ہمارے ہاں بھی بعض بخاروں میں اطباء مریض کے سر پر تو کپڑا بلکہ برف رکھواتے ہیں لہذا یہ عمل طبیب کے مشورہ سے کیا جاوے، ہمارے ہاں کے اکثر بخاروں میں پانی مضر ہوتا ہے۔ احادیث پاک میں بخار والے کو سات مشکیزوں سے نہلانے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے مگر وہ ہی بخارگرمی والے۔حدیث شریف میں ہے کہ مؤمن کا ایک شب کا بخار ایک سال کے گناہ معاف کرادیتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4525