Main Icon

باب:دواؤں اور دعاؤں کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4523

دواؤں اور دعاؤں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَكُمْ بِالْغَمْزِ مِنَ الْعُذْرَةِ عَلَيْكُمْ بِالْقُسْطِ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تعذبوا صبيانكم بالغمز من العذرة عليكم بالقسط(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تم اپنے بچوں کو دبانے سے تکلیف نہ دو گلے آجانے میں ۱∞؎تم قسط اختیار کرو ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کبھی بچوں کے حلق میں گلٹیاں نکل آتی ہیں ا س کے علاج کے لیے عورتیں اپنی انگلی میں دوا لگا کر حلق میں انگلی ڈال کر دباتی ہیں جس سے بچوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے،خون جاری ہوجاتا ہے،میں بھی بچپن میں یہ مصیبت بھگت چکا ہوں حضور نے اس سے منع فرمایا۔
۲
؎یعنی قسط بحری کو پانی میں حل کرکے مریض کے ناک میں ٹپکا دو کہ دماغ و حلق میں پہنچ جاوے۔اس علاج سے اطباء حیران ہیں کیونکہ گلے کی گلٹیاں جسے گلے آنا کہا جاتا ہے گرمی سے ہوتی ہیں اور قسط بحری بھی گرم ہے تو گرم کو گرم کیسے دفع کرسکتا ہے مگر اکثر گلے کی گلٹیاں اس خون سے پیدا ہوتی ہیں جس پر بلغم غالب ہو اور قسط بحری بلغم چھانٹنے میں اکسیر ہے لہذا اس سے علاج مفید ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4523