Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4486

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرَ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهٖ كَأَنَّهٗ يَأْمُرُهٗ بِإِصْلَاحِ شَعْرِهٖ وَلِحْيَتِهٖ فَفَعَلَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ هٰذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ ثَائِرُ الرَّأْسِ كَأَنَّهٗ شَيْطَانٌ » . رَوَاهُ مَالِكٌ .

وعن عطاء بن يسار قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد فدخل رجل ثائر الرأس واللحية فأشار إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده كأنه يأمره بإصلاح شعره ولحيته ففعل ثم رجع فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أليس هذا خيرا من أن يأتي أحدكم وهو ثائر الرأس كأنه شيطان » . رواه مالك .

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطاء ابن یسار سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے تو ایک شخص سر اور ڈاڑھی بکھیرے آیا ۲؎تو اس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا گویا آپ اسے اپنے بال اپنی ڈاڑھی کی درستی کا حکم دے رہے تھے۳؎چنانچہ اس نے کرلیا پھر واپس آیا۴؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا یہ اس سے بہتر نہیں کہ تم میں سے کوئی شیطان کی طرح سر بکھیرے ہوئے آئے ۵؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ابو محمد ہے،ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزادکردہ غلام ہیں،مشہور تابعی ہیں،مدینہ منورہ میں قیام رہا،چوراسی سال عمر پائی، ۹۷ھ؁∞ ستانوے ہجری میں وفات،پائی مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے،اکثر روایات حضرت ابن عباس سے لیتے ہیں،یہ حدیث مرسل ہے۔
۲
؎اس طرح کہ نہ سر میں تیل کنگھی نہ ڈاڑھی میں،دونوں کے بال بکھرے ہوئے تھے جس سے شکل بگڑ گئی تھی بری معلوم ہوتی تھی۔
۳
؎یعنی آپ نے زبان سے کچھ نہ فرمایا بلکہ ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ان دونوں کو ٹھیک کرے حضور کا ہر عضو مبلغ ہے۔
۴
؎یعنی مجلس شریف سے باہر گیا وہاں درست کرکے پھر حاضر ہوا۔
۵
؎شیطان سے مراد مردود جن ہیں یعنی بھوت یہ اپنی بدشکلی میں مشہور ہیں ان کی شکل ڈراؤنی ہوتی ہے جیسے فرشتے اچھی صورت سیرت میں مشہور ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4486