- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- لباس کا بیان
- حدیث نمبر 4431
باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4431
لباس کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 4419
- 4420
- 4421
- 4422
- 4423
- 4424
- 4425
- 4426
- 4427
- 4428
- 4429
- 4430
- 4431
- 4432
- 4433
- 4434
- 4435
- 4436
- 4437
- 4438
- 4439
- 4440
- 4441
- 4442
- 4443
- 4444
- 4445
- 4446
- 4447
- 4448
- 4449
- 4450
- 4451
- 4452
- 4453
- 4454
- 4455
- 4456
- 4457
- 4458
- 4459
- 4460
- 4461
- 4462
- 4463
- 4464
- 4465
- 4466
- 4467
- 4468
- 4469
- 4470
- 4471
- 4472
- 4473
- 4474
- 4475
- 4476
- 4477
- 4478
- 4479
- 4480
- 4481
- 4482
- 4483
- 4484
- 4485
- 4486
- 4487
- 4488
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَعَنَ اللّٰهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰهِ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: إِنَّهٗ بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ: مَا لِي لَا أَلْعَنْ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ هُوَ فِي كِتَابِ اللّٰهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ مَا تَقُولُ قَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأتِ:(مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا)؟ قَالَت: بلٰى قَالَ: فَإِنَّهٗ قَدْ نَهٰى عَنْهُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
وعن عبد الله بن مسعود قال: لعن الله الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله فجاءته امرأة فقالت: إنه بلغني أنك لعنت كيت وكيت فقال: ما لي لا ألعن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن هو في كتاب الله فقالت: لقد قرأت ما بين اللوحين فما وجدت فيه ما تقول قال: لئن كنت قرأتيه لقد وجدتيه أما قرأت:(ما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا)؟ قالت: بلى قال: فإنه قد نهى عنه. (متفق عليه)
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ لعنت کرے اللہ گودنے والیوں پر اور گودوانے والیوں پر اور بال اکھیڑنے والیوں پر ۱؎اور حسن کے لیے کھڑکیاں کرانے والیوں پر۲؎جو اللہ کی خلقت کو بدلنے والیاں ہیں ۳؎تو ایک عورت آپ کے پاس آئی بولی کہ مجھے خبرپہنچی ہے کہ تم نے فلاں فلاں پرلعنت کی ہے۴؎فرمایا میں کیوں لعنت نہ کروں اس پر جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور اسپر جو اللہ کی کتاب میں ہے ۵؎وہ بولی کہ میں نے تو دو تختیوں کے درمیان میں پڑھا ہے جو تم کہتے ہو وہ میں نے اس میں نہ پائی ۶؎فرمایا اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو تم اسے پا لیتیں ۷؎کیا تم نے نہ پڑھا کہ جو تم کو رسول دیں اسے لے لو اور جس سے تم کو رسول منع کریں اس سے باز رہو وہ بولی ہاں فرمایا کہ حضور نے اس سے منع فرمایا ہے ۸؎(مسلم،بخاری)۹؎
شرح حدیث
۱∞؎یہ لفظ بناہےنماصسے،نماصبال اکھیڑنے کہ آلہ کو کہتے ہیں جسے پنجاب میں موچنا کہا جاتا ہے یہاں چہرے کا رونگٹا اکھیڑنا مراد ہے یہ حرام ہے ورنہ اگر عورت کے ڈاڑھی یا مونچھیں نکل آویں تو انہیں ضرور اکھیڑ دے۔(مرقات)
۲؎متفلجاتبنا ہےفلجسے،فلجاس کھڑکی یا کشادگی کو کہتے ہیں جو دو دانتوں کے درمیان ہوتی ہے،بعض عورتیں مشین کے ذریعہ اپنے دانت پتلے کروا کر درمیان میں جھریاں کرالیتی ہیں اسے اپنے لیے حسن و خوبصورت تصورکرتی ہیں یہ حرام ہے،اس سے دانت بھی خراب ہوجاتے ہیں پھر ٹھنڈا پانی گرم چائے یا دودھ نہیں پی سکتیں دانتوں میں لگتا ہے۔للحسنکا تعلق یا تو صرفمتفلجاتسے ہے یاوالشماتاورمتنمصاتاورمتفلجاتتینوں سے ہے یعنی جوعورتیں یہ تینوں کام خوبصورتی کے لیے کریں وہ لعنتی ہیں جو مجبورًا کسی مرض کی وجہ سے کریں انہیں معافی ہے۔
۳؎خیال رہے کہ تبدیلی خلق اللہ دوطرح کی ہے: ایک شرعًا جائز دوسری حرام ۔چنانچہ ختنہ کرنا ، ناخن کٹوانا، مونچھیں ترشوانا ،حجامت کرانا ان میں بھی تبدیلی خلق اللہ تو ہے مگر اس کا حکم ہےاور یہ مذکورہ چیزیں دانت پتلے کرانا وغیرہ تبدیلی خلق اللہ ہے مگر حرام،یہاں حرام تبدیلی مراد ہے یعنی چونکہ اس حرکت میں حرام تبدیلی ہے لہذا یہ ممنوع ہے۔(اشعۃ اللمعات)
۴؎یعنی کسی مسلمان پر لعنت جائز نہیں تو تم نے ان مسلمان عورتوں پر لعنت کیوں کی تم نے صحابی رسول ہو کر ایسی جرات کس بنا پر کی۔
۵؎یعنی میں نے خود اپنی طرف سے ان پر لعنت نہیں کی بلکہ اللہ رسول نے لعنت کی ہے میں تو ان لعنتوں کا ناقل ہوں لعنت رسول تو میں نے خود سنی ہے لعنت اللہ قرآن مجید سے معلوم کی ہے لہذا میری یہ لعنت برحق ہے لہذا یہ حدیث مرفوع ہوگئی۔
۶؎یعنی اس کے متعلق حدیث حدیث تو ہوگئی جو میں نے نہ سنی ہو آپ نے سنی ہو کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت زیادہ حاضر رہتے تھے مگر قرآن کریم تو مقررومعین ہے میں اسے دن رات پڑھتی ہوں میں نے کسی آیت میں ان عورتوں اور ان پرلعنت کا ذکر نہ دیکھا میں اس میں آپ کو سچا کیسے مان لوں۔لوحینسے مراد قرآن مجید کی جلد کے دو گتے ہیں جن کے بیچ میں قرآن مجید ہوتا ہے مراد ہے سارا قرآن مجید۔
۷؎مطلب یہ ہے کہ اگر تم قرآن مجید غور سے پڑھتیں سمجھ بوجھ کر تو تم کو اس میں یہ لعنت مل جاتی اور تم میری تصدیق کردیتیں۔
۸؎سبحان الله!کیسا ایمان افروز شاندار استنباط ہے اس آیت سے یہ ثابت فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام منع فرمائی ہوئی چیزیں قرآن مجید کی ممانعت میں داخل ہیں اور حضور نے تو ان سے منع فرما یا ہے لہذا قرآن نے بھی انہیں منع فرمایا حضور کی لعنت خدا تعالٰی کی لعنت ہے۔(مرقات)لہذا حضور کی رحمت و کرم رب تعالٰی کی رحمت ہے۔
۹؎اس حدیث کو احمد،ترمذی ابن ماجہ،ابوداؤد،نسائی نے بھی روایت کیا۔(مرقات)اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ حدیث کے احکام کو قرآن کی طرف نسبت کرسکتے ہیں کہ کتاب قرآن خاموش قرآن ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم بولتے ہوئے قرآن ہیں، لہذا کہہ سکتے ہیں کہ نماز کی تعدادومقدار زکوۃ کی مقداریں وغیرہ سب کچھ قرآن میں ہے کیونکہ یہ حضور نے بتادیئے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4431