Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4431

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَعَنَ اللّٰهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللّٰهِ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: إِنَّهٗ بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ: مَا لِي لَا أَلْعَنْ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ هُوَ فِي كِتَابِ اللّٰهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ مَا تَقُولُ قَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأتِ:(مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا)؟ قَالَت: بلٰى قَالَ: فَإِنَّهٗ قَدْ نَهٰى عَنْهُ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عبد الله بن مسعود قال: لعن الله الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله فجاءته امرأة فقالت: إنه بلغني أنك لعنت كيت وكيت فقال: ما لي لا ألعن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن هو في كتاب الله فقالت: لقد قرأت ما بين اللوحين فما وجدت فيه ما تقول قال: لئن كنت قرأتيه لقد وجدتيه أما قرأت:(ما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا)؟ قالت: بلى قال: فإنه قد نهى عنه. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ لعنت کرے اللہ گودنے والیوں پر اور گودوانے والیوں پر اور بال اکھیڑنے والیوں پر ۱؎اور حسن کے لیے کھڑکیاں کرانے والیوں پر۲؎جو اللہ کی خلقت کو بدلنے والیاں ہیں ۳؎تو ایک عورت آپ کے پاس آئی بولی کہ مجھے خبرپہنچی ہے کہ تم نے فلاں فلاں پرلعنت کی ہے۴؎فرمایا میں کیوں لعنت نہ کروں اس پر جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور اسپر جو اللہ کی کتاب میں ہے ۵؎وہ بولی کہ میں نے تو دو تختیوں کے درمیان میں پڑھا ہے جو تم کہتے ہو وہ میں نے اس میں نہ پائی ۶؎فرمایا اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو تم اسے پا لیتیں ۷؎کیا تم نے نہ پڑھا کہ جو تم کو رسول دیں اسے لے لو اور جس سے تم کو رسول منع کریں اس سے باز رہو وہ بولی ہاں فرمایا کہ حضور نے اس سے منع فرمایا ہے ۸؎(مسلم،بخاری)۹؎

شرح حدیث

۱∞؎یہ لفظ بناہےنماصسے،نماصبال اکھیڑنے کہ آلہ کو کہتے ہیں جسے پنجاب میں موچنا کہا جاتا ہے یہاں چہرے کا رونگٹا اکھیڑنا مراد ہے یہ حرام ہے ورنہ اگر عورت کے ڈاڑھی یا مونچھیں نکل آویں تو انہیں ضرور اکھیڑ دے۔(مرقات)
۲
؎متفلجاتبنا ہےفلجسے،فلجاس کھڑکی یا کشادگی کو کہتے ہیں جو دو دانتوں کے درمیان ہوتی ہے،بعض عورتیں مشین کے ذریعہ اپنے دانت پتلے کروا کر درمیان میں جھریاں کرالیتی ہیں اسے اپنے لیے حسن و خوبصورت تصورکرتی ہیں یہ حرام ہے،اس سے دانت بھی خراب ہوجاتے ہیں پھر ٹھنڈا پانی گرم چائے یا دودھ نہیں پی سکتیں دانتوں میں لگتا ہے۔للحسنکا تعلق یا تو صرفمتفلجاتسے ہے یاوالشماتاورمتنمصاتاورمتفلجاتتینوں سے ہے یعنی جوعورتیں یہ تینوں کام خوبصورتی کے لیے کریں وہ لعنتی ہیں جو مجبورًا کسی مرض کی وجہ سے کریں انہیں معافی ہے۔
۳
؎خیال رہے کہ تبدیلی خلق اللہ دوطرح کی ہے: ایک شرعًا جائز دوسری حرام ۔چنانچہ ختنہ کرنا ، ناخن کٹوانا، مونچھیں ترشوانا ،حجامت کرانا ان میں بھی تبدیلی خلق اللہ تو ہے مگر اس کا حکم ہےاور یہ مذکورہ چیزیں دانت پتلے کرانا وغیرہ تبدیلی خلق اللہ ہے مگر حرام،یہاں حرام تبدیلی مراد ہے یعنی چونکہ اس حرکت میں حرام تبدیلی ہے لہذا یہ ممنوع ہے۔(اشعۃ اللمعات)
۴
؎یعنی کسی مسلمان پر لعنت جائز نہیں تو تم نے ان مسلمان عورتوں پر لعنت کیوں کی تم نے صحابی رسول ہو کر ایسی جرات کس بنا پر کی۔
۵
؎یعنی میں نے خود اپنی طرف سے ان پر لعنت نہیں کی بلکہ اللہ رسول نے لعنت کی ہے میں تو ان لعنتوں کا ناقل ہوں لعنت رسول تو میں نے خود سنی ہے لعنت اللہ قرآن مجید سے معلوم کی ہے لہذا میری یہ لعنت برحق ہے لہذا یہ حدیث مرفوع ہوگئی۔
۶
؎یعنی اس کے متعلق حدیث حدیث تو ہوگئی جو میں نے نہ سنی ہو آپ نے سنی ہو کہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت زیادہ حاضر رہتے تھے مگر قرآن کریم تو مقررومعین ہے میں اسے دن رات پڑھتی ہوں میں نے کسی آیت میں ان عورتوں اور ان پرلعنت کا ذکر نہ دیکھا میں اس میں آپ کو سچا کیسے مان لوں۔لوحینسے مراد قرآن مجید کی جلد کے دو گتے ہیں جن کے بیچ میں قرآن مجید ہوتا ہے مراد ہے سارا قرآن مجید۔
۷
؎مطلب یہ ہے کہ اگر تم قرآن مجید غور سے پڑھتیں سمجھ بوجھ کر تو تم کو اس میں یہ لعنت مل جاتی اور تم میری تصدیق کردیتیں۔
۸
؎سبحان الله!کیسا ایمان افروز شاندار استنباط ہے اس آیت سے یہ ثابت فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام منع فرمائی ہوئی چیزیں قرآن مجید کی ممانعت میں داخل ہیں اور حضور نے تو ان سے منع فرما یا ہے لہذا قرآن نے بھی انہیں منع فرمایا حضور کی لعنت خدا تعالٰی کی لعنت ہے۔(مرقات)لہذا حضور کی رحمت و کرم رب تعالٰی کی رحمت ہے۔
۹
؎اس حدیث کو احمد،ترمذی ابن ماجہ،ابوداؤد،نسائی نے بھی روایت کیا۔(مرقات)اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ حدیث کے احکام کو قرآن کی طرف نسبت کرسکتے ہیں کہ کتاب قرآن خاموش قرآن ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم بولتے ہوئے قرآن ہیں، لہذا کہہ سکتے ہیں کہ نماز کی تعدادومقدار زکوۃ کی مقداریں وغیرہ سب کچھ قرآن میں ہے کیونکہ یہ حضور نے بتادیئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4431