Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4421

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَطلَّمَ: " خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ: أَوْفِرُوا اللُّحٰى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ ". وَفِي رِوَايَةٍ: «أَنْهِكُوا الشَّوَارِبَ وَأَعْفُوا اللُّحٰى (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسطلم: " خالفوا المشركين: أوفروا اللحى وأحفوا الشوارب ". وفي رواية: «أنهكوا الشوارب وأعفوا اللحى (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مخالفت کرو مشرکین کی ۱؎ڈاڑھی بڑھاؤ ۲؎اور مونچھیں پست کراؤ اور ایک روایت میں ہے کہ مونچھیں نیچی کرو اور ڈاڑھیاں بڑھاؤ ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مشرکین سے مرادکفار ہیں خواہ بت پرست ہوں یا اہلِ کتاب۔مخالفت سے مراد شکل،لباس،وضع قطع سب میں مخالفت ہوسکتی ہے مگر یہاں شکل میں مخالفت مراد ہے جیساکہ اگلی تفسیر سے ظاہر ہے۔یہ امروجوب کے لیے ہے کہ مسلمان کو کفار کی سی شکل بنانا حرام ہے۔
۲
؎اوفروابنا ہےوفرسے بمعنی بڑھانا زیادہ کرنا،لحیجمع ہےلحیۃکی بمعنی ڈاڑھی،رخسار اور ٹھوڑی پر جو بال ہیں انہیںلحیہیعنی ڈاڑھی کہا جاتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ڈاڑھی کو ہاتھ نہ لگاؤ اسے بڑھنے دو اس کے بڑھنے کی حد دوسری حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ڈاڑھی کی لمبائی چوڑائی سے کچھ کترتے تھے،اسے حضرت عبداللہ ابن عمر کے فعل شریف نے واضح کیا آپ چار انگلی یعنی مٹھی بھر سے زیادہ کو کٹوا دیتے تھے،دیکھو بخاری کتاب الحج اور شامی وغیرہ۔اگر عورت کے ڈاڑھی نکل آوے تو اس کا اکھیڑ دینا ضروری ہے کہ وہ داڑھی نہیں ہے بلکہ بیماری ہے۔ڈاڑھی مشت سے کم کرنا بھی منع ہے اور اس سے زیادہ کرنا بھی منع ہے اور ہر دو کے پیچھے نماز مکروہ۔(مرقات و شامی)
۳
؎احفاءاوراعفاءدونوں کے معنی ہیں بڑھانا۔کفار کی مخالفت کو حضور انور نے مقرر فرمادیا کہ ڈاڑھی بڑھا کر ان کی مخالفت کرو اگرکسی جگہ کے کفار ڈاڑھی رکھتے ہوں جیسے ہمارے ہاں کے سکھ تو انکی مخالفت میں داڑھی مونڈانا حرام ہے کہ مخالفت کو حضور نے مقرر فرمادیا،یہ بھی خیال رہے کہ ایک مشت ڈاڑھی قرآن مجید سے بھی ثابت ہے،حضرت ہارون نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا"لَاتَاۡخُذْ بِلِحْیَتِیۡ"میری ڈاڑھی نہ پکڑو۔معلوم ہوا کہ آپ کی ڈاڑھی اتنی تھی کہ پکڑنے میں آجائے وہ مٹھی بھر ہی ہے۔انبیاء کرام کے متعلق احادیث میں ہے کہ وہ خشخشی یعنی بھری ڈاڑھی والے تھے بھری ڈاڑھی مشت سے کم نہیں ہوسکتی لہذا فرنچ یا خشخشی یا مشت سے کم داڑھی رکھنا حرام ہے کہ یہ منڈانے کے حکم میں ہے۔اس کی بحث شامیکتاب الصوممیں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4421