Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4484

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ دَخَلْنَا عَلٰى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ قَالَتْ: وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ فَمَسَحَ رَأْسَكَ وَبَرَّكَ عَلَيْكَ وَقَالَ: «احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هٰذَا زِيُّ الْيَهُودِ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

و عن الحجاج بن حسان قال دخلنا على أنس بن مالك فحدثتني أختي المغيرة قالت: وأنت يومئذ غلام ولك قرنان أو قصتان فمسح رأسك وبرك عليك وقال: «احلقوا هذين أو قصوهما فإن هذا زي اليهود» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حجاج ابن حسان سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہم انس ابن مالک کے پاس گئے تو مجھے میری بہن مغیرہ نے بتایا بولیں کہ تم اس دن بچے تھے۲؎اور تمہارے دو گیسو یا پیشانی پر دو جوڑے تھے۳؎تو تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا اورتمہیں دعائے برکت دی اور فرمایا کہ ان دونوں کو مونڈوا دیا اور کتروادیا کرو کیونکہ یہ یہود کا طریقہ ہے ۴؎( ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎تابعی ہیں،بصری ہیں،امام احمد ابن حنبل نے ایک بار کہا کہ ثقہ ہیں دوسری بار کہا کہ ان سے حدیث لینے میں حرج نہیں،یحیی ابن معین کہتے ہی کہ وہ صالح الحدیث ہیں۔
۲
؎یعنی حضرت انس کے پاس جانے کے واقعہ کی تفصیل مجھے یادنہیں میری بہن مغیرہ نے مجھے یہ تفصیل سنائی وہ بھی ہم سب کے ساتھ اس دن جناب انس کے پاس گئی تھیں۔مغیرہبدل یا عطف بیان ہےاختیسے اور لفظمغیرہمشترک ہے عورت و مرد کے درمیان کہ مغیرہ مردوں کے نام بھی ہوتے ہیں عورتوں کے نام بھی۔
۳
؎قرنان تثنیہ ہےقرنکا بمعنی لٹ یا گیسو اورقصتانتثنیہ ہےقصۃکا،قصۃق کے پیش صاد کے شد سے بمعنی جوڑا یعنی پیشانی کے بال جمع کر کے دھاگہ سے باندھ لیے جاویں۔
۴
؎یعنی حضرت انس نے تمہارے سر پر ہاتھ بھی پھیرا اور تمہارے لیے دعاء برکت بھی کی اور یہ حکم بھی دیا۔پہلےگزر چکا ہے کہقزعسے حضور انور نے ممانعت فرمائی یہ ہی آپ فرمارہے ہیں کہ یا تو کل بال رکھاؤ یا کل کتراؤ یا منڈاؤ،بعض بال کتر دینا بعض رکھنا درست نہیں یہ طریقہ یہود ہے ۔آج کل سکھ سر کے بال بہت دراز رکھتے ہیں اور انہیں سر کے وسط جوڑا بنالیتے ہیں مسلمان کے لیے یہ بھی ممنوع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4484