Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4483

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهٗ قَالَ لِرَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جُمَّةً أَفَأُرَجِّلُهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ وَأَكْرِمْهَا» قَالَ: فَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ رُبَّمَا دَهَّنَهَا فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ مِنْ أَجْلِ قَوْلُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: « نَعَمْ وَأَكْرِمْهَا » . رَوَاهُ مَالِكٌ

وعن أبي قتادة أنه قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم إن لي جمة أفأرجلها؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «نعم وأكرمها» قال: فكان أبو قتادة ربما دهنها في اليوم مرتين من أجل قول رسول الله صلى الله عليه وسلم: « نعم وأكرمها » . رواه مالك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے بال جمہ ہیں ۱∞؎تو کیا میں ان میں کنگھی کروں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور ان کی خدمت کرو ۲؎فرماتے ہیں کہ ابوقتادہ بہت دفعہ ان میں ایک دن میں دوبار تیل لگاتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے کہ ہاں اور انکی خدمت کرو۳؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎جمہ وہ بال ہیں جو کندہوں اور کان کے درمیان ہوں۔سر کے بالوں کی تین حدیں ہیں: وفرہ،جمہ،لمہ۔ کندھوں سے نیچے مرد کے بال نہ چاہئیں۔
۲
؎یعنی جوشخص اپنے سر پر بال رکھے تو انہیں پریشان نہ رکھے،بال بکھیرے نہ رہے،بھوت بنا ہوا نہ رہے،سر دھونا،تیل ڈالنا،کنگھی کرنا یہ کام کرتا رہے،پھر اس مانگ پٹی میں اتنا بھی مشغول نہ ہوکہ روزہ نماز ہی بھول جاوے۔
۳
؎اگرچہ اتنا زیادہ مانگ پٹی کرنا بہتر نہیں مگر انہوں نے سمجھا کہ میرے لیے بہتر ہے کہ حضور اقدس نے فرمایا بالوں کی خدمت کرو لہذا میرا اور حکم ہے دوسروں کا اور حکم جیسے حضرت انس کی والدہ نے جناب انس کے سر کے اگلے بال نہ ترشوائے خصوصیت کی بناء پر۔( اشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4483