- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- لباس کا بیان
- حدیث نمبر 4471
باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4471
لباس کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
- حدیث
-
- 4419
- 4420
- 4421
- 4422
- 4423
- 4424
- 4425
- 4426
- 4427
- 4428
- 4429
- 4430
- 4431
- 4432
- 4433
- 4434
- 4435
- 4436
- 4437
- 4438
- 4439
- 4440
- 4441
- 4442
- 4443
- 4444
- 4445
- 4446
- 4447
- 4448
- 4449
- 4450
- 4451
- 4452
- 4453
- 4454
- 4455
- 4456
- 4457
- 4458
- 4459
- 4460
- 4461
- 4462
- 4463
- 4464
- 4465
- 4466
- 4467
- 4468
- 4469
- 4470
- 4471
- 4472
- 4473
- 4474
- 4475
- 4476
- 4477
- 4478
- 4479
- 4480
- 4481
- 4482
- 4483
- 4484
- 4485
- 4486
- 4487
- 4488
- اگلا
حدیث مبارکہ
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرُ عَهْدِهٖ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِهٖ فَاطِمَةَ وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا فَاطِمَةَ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ وَقَدْ عَلَّقَتْ مَسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلٰى بَابِهَا وَحَلَّتِ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَقَدِمَ فَلَمْ يَدْخُلْ فَظَنَّتْ أَنَّ مَا مَنَعَهٗ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأٰى فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَفَكَّتِ الْقُلْبَيْنِ عَنْ الصَّبِيَّيْنِ وَقَطَعَتْهُ مِنْهُمَا فَانْطَلَقَا إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِيَانِ فَأَخَذَهٗ مِنْهُمَا فَقَالَ: «يَا ثَوْبَانُ اذْهَبْ بِهٰذَا إِلٰى فُلَانٍ إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي أَكْرَهٗ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا.يَا ثَوْبَانُ اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصْبٍ وَ سُوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ
وعن ثوبان قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سافر كان آخر عهده بإنسان من أهله فاطمة وأول من يدخل عليها فاطمة فقدم من غزاة وقد علقت مسحا أو سترا على بابها وحلت الحسن والحسين قلبين من فضة فقدم فلم يدخل فظنت أن ما منعه أن يدخل ما رأى فهتكت الستر وفكت القلبين عن الصبيين وقطعته منهما فانطلقا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم يبكيان فأخذه منهما فقال: «يا ثوبان اذهب بهذا إلى فلان إن هؤلاء أهلي أكره أن يأكلوا طيباتهم في حياتهم الدنيا.يا ثوبان اشتر لفاطمة قلادة من عصب و سوارين من عاج» . رواه أحمد وأبو داود
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفرکرتے تو آپ کے گھر والوں میں جس شخص سے آپ کی آخری ملاقات ہوتی وہ فاطمہ تھیں اور پہلے جن کے پاس تشریف لاتے فاطمہ ہوتیں ۲؎چنانچہ آپ ایک غزوہ سے تشریف لائے آپ نے اپنے دروازے پر ٹاٹ یا پردہ ڈالا ہوا تھا اور حضرت حسن وحسین کو چاندی کے دو کنگن پہنائے ہوئے تھے ۳؎تو آپ تشریف لائے مگر اندر نہ آئے ۴؎آپ سمجھ گئیں کہ حضور کو تشریف آوری سے اس نے روکا جو آپ نے دیکھا ۵؎چنانچہ انہوں نے پردہ پھاڑ دیا اور دونوں کنگن بچوں سے الگ کردیئے اور دونوں سے کاٹ دیئے ۶؎پس دونوں بچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں روتے ہوئے چلے ۷؎حضور نے ان دونوں سے وہ لے لیے پھر فرمایا اے ثوبان اسے فلاں کے پاس لے جاؤ ۸؎یہ لوگ میرے گھر والے ہی ہیں میں یہ ناپسند کرتا ہوں کہ یہ اپنی طیب چیزیں اپنی دنیاوی زندگی میں کھالیں ۹؎اے ثوبان فاطمہ کے لیے عصب کا ہار ۱۰؎اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید لاؤ ۱۱∞؎(احمد، ابوداؤد)
شرح حدیث
۱∞؎حضرت ثوبان حضور کے آزاد کردہ مشہور غلام ہیں جو حضور انور کے ساتھ سفروحضر میں ملازم بارگاہ رہتے تھے،آپ کے حالات بیان ہوچکے ہیں کہ آپ کا نام شریف ثوبان ابن بجد ہے،کنیت ابو عبداللہ حضور کی وفات کے بعد آپ شام چلے گئے،مقام رملہ میں حمص میں مقیم رہے، ۵۴∞ چون میں وفات پائی۔
۲؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تشریف لے جاتے تو پہلے سارے گھر والوں سے رخصت ہوتے سب سے آخر میں حضرت فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے جناب فاطمہ کے گھر تشریف لاتے پھر دوسرے اہلِ بیت کے پاس غرضکہ جانا بھی اس گھر سے ہوتا اور آنا بھی اسی گھر میں اس گھر کی عزت پر لاکھوں سلام۔
۳؎دروازہ کا یہ پردہ غالبًا تصاویر والا تھا اور چاندی کے کنگن لڑکوں کے لیے تصاویر والا پردہ یہ دونوں حرام ہیں جناب فاطمہ کو ان کی حرمت کی ابھی تک خبر نہ تھی اسی لیے آپ نے یہ دونوں کام کیے ہوئے تھے ورنہ اہل بیت نبوت دانستہ طور پر ناجائز کام نہیں کرسکتے۔
۴؎اظہارِ ناراضگی کے لیے یہ ایک طریقہ تبلیغ ہے،یہ تبلیغ عملی ہے جو قولی تبلیغ سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے یعنی اظہار ناراضگی۔
۵؎آپ نے نور ایمانی فراست ولایت سے معلوم کرلیا کہ اندر تشریف نہ لانے کی وجہ صرف یہ دو کام ہی ہو سکتے ہیں۔
۶؎یا توقطعتتفسیر ہے تب تو دونوں کے معنی ہیں علیٰحدہ کردیئے یا ف عطف کی ہے یعنی کنگن دونوں صاحبزادوں سے اتار لیے اور توڑ دیئے تاکہ آئندہ یہ بچے انہیں نہ پہن سکیں بہرحال حضور کی صرف ناراضگی ملاحظہ فرماکر یہ دونوں چیزیں ختم کر دیں۔
۷؎اس طرح کہ کنگن کے ٹکڑے ان کے ہاتھوں میں تھے جناب فاطمہ نے یہ ٹکڑے ان دونوں کے ہاتھ حضور کی خدمت میں بھیجے تاکہ حضور انہیں اپنے ہاتھ سے خیرات کردیں اور حضور انور کو اس عمل پر اطلاع ہو جاوے اور حضور گھر میں تشریف لاویں۔
۸؎وہ لوگ فقراء ہیں انہیں صدقہ کرکے دے آؤ ان کا کام چل جاوے گا جناب فاطمہ زہرا کا یہ ہی منشا تھا۔
۹؎یعنی حضرت فاطمہ زہرا بھی ان کنگنوں کو نہ پہنیں کہ اگرچہ ان کے لیے انکا پہننا جائز ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے اہل بیت جائز آرائش ٹیپ ٹاپ بھی نہ کریں تاکہ ان کے دل دنیا میں نہ لگیں اور آخرت میں ان کے درجات اور بلند ہوں وہ دنیا میں فقروریاضت کی زندگی گزاریں،چونکہ فاطمہ زہرا کوگزشتہ واقعہ سے غم ہوا تھا اس لیے حضور اکرم نے ان کا غم غلط فرمانے کے لیے اگلا حکم صادر فرمایا تاکہ تسلی ہو۔
۱۰؎ایک یمنی کپڑے کا نام بھی عصب ہے جو دھاری دار ہوتا ہے اور ایک دریائی جانور کی ہڈی ہے جو کوڑیوں کے مشابہہ ہوتی ہے اسے سکھا کر ہار کے منکے بنائے جاتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہے،بعض نے کہا کہ عصب ایک دریائی جانور کے دانت ہیں جسے فرس فرعون کہتے ہیں۔(اشعہ)۱۱∞؎اکثر شارحین نےعاجکے معنی ہاتھی دانت کیے ہیں۔بعض نے فرمایا کہ یہ بھی ایک دریائی جانور کے دانت ہیں سواء سؤر اور انسان کے باقی تمام حرام جانوروں کی ہڈی جو خشک ہو پاک ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4471