Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4465

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَرِيمَةَ بِنْتِ هَمَّامٍ: أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ خِضَابِ الْحِنَّاءِ فَقَالَتْ: لَا بَأْسَ وَلٰكِنِّي أَكْرَهُهٗ كَانَ حَبِيبِي يَكْرَهٗ رِيحَهُ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعن كريمة بنت همام: أن امرأة سألت عائشة عن خضاب الحناء فقالت: لا بأس ولكني أكرهه كان حبيبي يكره ريحه. رواه أبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے کریمہ بنت ہمام سے ۱∞؎کہ ایک عورت نے جناب عائشہ سے مہندی کے خضاب کے متعلق پوچھا ۲؎آپ بولیں کوئی حرج نہیں لیکن میں اسے ناپسند کرتی ہوں۳؎میرے محبوب اس کی مہک ناپسند کرتے تھے ۴؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعیہ ہیں،آپ کے والد کا نام ابراہیم ابن محمد ابن ابراہیم ابن ہمام ہے۔(مرقات)۲؎کہ عورتوں کو اس کا خضاب ہاتھ پاؤں اور سر میں لگانا کیسا ہے مگر غالب یہ ہے کہ یہاں سر میں مہندی لگانا مراد ہے تاکہ یہ حدیث اس حدیث کے مخالف نہ ہو جس میں عورتوں کو ہاتھ پاؤں میں مہندی لگانے کا حکم دیا گیا ہے لہذا حدیث واضح ہے۔(مرقات)۳؎شاید سائلہ نے حضرت ام المؤمنین سے پوچھا ہوگا کہ آپ مہندی کیوں نہیں لگاتیں تب آپ نے یہ جواب دیا کہ اس میرے فعل کی وجہ یہ ہے۔
۴
؎اس حدیث کی بنا پر شوافع کہتے ہیں کہ مہندی میں خوشبو نہیں لہذا بحالت احرام اس کا خضاب درست ہے کیونکہ حضور انور کو خوشبو پسند تھی اور مہندی کی بو پسند نہ تھی اگر مہندی میں بھی خوشبو ہوتی تو آپ کو پسند ہوتی،امام اعظم فرماتے ہیں کہ مہندی ہے تو خوشبو اس کا خضاب احرام میں جائز نہیں مگر حضور انور کو جنس خوشبو پسند تھی نہ کہ ہر فرد خوشبو یا بعض خوشبوئیں زیادہ پسندتھیں بعض کم جیسے حضور انور کو گوشت پسند تھا مگر بعض جانوروں کے گوشت ناپسند تھے تو اس سے لازم یہ نہیں کہ وہ گوشت گوشت ہی نہیں۔فقیر کہتا ہے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی ازواج پاک کے ہاتھ پاؤں کی مہندی بھی بہتر نہ تھی کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج پاک سر میں تو مہندی لگاتی ہی نہ تھیں ان کے بال سفید تھے ہی نہیں ہاتھ پاؤں میں لگاتی تھیں اسے ناپسند فرمایا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور انور کے پردہ فرمانے کے بعدبھی ازواج پاک حضور کی ناپسند چیزیں استعمال نہ فرماتی تھیں،حضور حیات ہیں اپنے ازواج پاک کو بعد وفات ملاحظہ فرما رہے ہیں،ان کے حالات سے خوش ہوتے ہیں یہ ناپسندیدگی صرف ازواج پاک کے لیے ہے دوسری عورتوں کے لیے حرج نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4465