Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4449

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا؟ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَانَا عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الإرْفَاهِ قَالَ: مَالِي لَا أَرٰى عَلَيْكَ حِذَاءً؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَحْتَفِيَ أَحْيَانًا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الله بن بريدة قال: قال رجل لفضالة بن عبيد: ما لي أراك شعثا؟ قال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينهانا عن كثير من الإرفاه قال: مالي لا أرى عليك حذاء؟ قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأمرنا أن نحتفي أحيانا. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بریدہ سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے فضالہ ابن عبید سے کہا ۲؎کہ مجھے کیا ہوا کہ میں آپ کو پرا گندہ بال دیکھتا ہوں۳؎فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو بہت عیش پسندی سے منع فرماتے تھے۴؎بولے کہ مجھے کیا ہوا کہ تمہارے پاؤں میں جوتے نہیں دیکھتا فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ کبھی کبھی ننگے پاؤں رہا کریں ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ عبداللہ ابن بریدہ ابن حصیب اسلمی ہیں،تابعی ہیں،اپنے والد بریدہ سے جوکہ صحابی ہیں روایات لیتے ہیں،آپ کے بیٹے سہل آپ سے روایات لیتے ہیں،مرو کے قاضی رہے،وہاں ہی وفات پائی۔
۲
؎فضالہ ابن عبید صحابی ہیں،انصاری ہیں،اوسی ہیں،غزوہ احد وغیرہ میں شامل رہے،پھر دمشق میں قاضی رہے امیر معاویہ کے زمانہ میں،وہاں ہی وفات پائی۔(مرقات)
۳
؎یعنی میں آپ کو کبھی کبھی سروبال کے پرا گندہ بال والا دیکھتا ہوں اس کی کیا وجہ ہے آپ روزانہ بال عمدہ کنگھی والے کیوں نہیں رکھتے۔
۴
؎یعنی ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ پر تکلف رہنے بناؤ سنگھار کئے رہنے سے منع فرمایا ہے، اس ممانعت میں صدہا حکمتیں ہیں۔ہمیشہ بنے ٹھنے رہنے سے صد ہا گناہ کا دروازہ کھل جاتا ہے اور نفس عیاش ہوجاتا ہے،اگر کبھی فقیری آجائے اور تکلیف ممکن نہ رہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے لہذا چاہئیے کہ کبھی کبھی معمولی حالت میں بھی رہا جاوے۔
۵
؎اس میں تقویٰ طہارت کی اعلی درجہ کی تعلیم ہے کہ کبھی کبھی انسان اپنے گھر اپنی گلی کوچہ میں ننگے پاؤں بھی پھر لیا کرے تاکہ اگر کبھی جوتی میسر نہ ہو تو اسے برداشت کرسکے۔غرضکہ اپنے کو کسی چیز کا عادی نہ بنائے،بھوک پیاس کی برداشت پیدا کرنے کے لیے روزہ فرض کیا گیا،ہر حالت کی برداشت کے لیے یہ تعلیم دی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4449