Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4436

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ بِأَلُوَّةٍ غَيْرَ مُطَرَّاةٍ وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهٗ مَعَ الْأَلُوَّةِ ثُمَّ قَالَ: هٰكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن نافع قال: كان ابن عمر إذا استجمر استجمر بألوة غير مطراة وبكافور يطرحه مع الألوة ثم قال: هكذا كان يستجمر رسول الله صلى الله عليه وسلم. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر جب دھونی لیتے تو لوبان سے دھونی لیتے غیر مخلوط ۱؎یا کافور سے لیتے جسے وہ لوبان کے ساتھ ڈالتے ۲؎پھر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح دھونی لیتے تھے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎استجماروہ خوشبو لینا جو جمرہ یعنی آگ کے انگاروں پر رکھ کر حاصل کی جاوے یعنی بخور یا دھونی اسی لیے انگیٹھی کومجمرہکہتے ہیں یہ جمرہ سے ہے نہ جمار سے،جمار سے جو استجمار آتاہے اس کے معنی ہوتے ہیں ڈھیلے سے استنجا کرنا،اسی سے ہے جمار جن کی رمی حج میں کی جاتی ہے۔لوبان مشہور خوشبو ہے جو پہلے بہت مروج تھی اب اگربتیوں کی وجہ سے اس کا رواج کم ہوگیا۔
۲
؎یعنی کبھی تو خالص لوبان سے دھونی لیتے کبھی لوبان کے ساتھ کافور بھی شامل فرمالیتے تھے دونوں کی ملاکر دھونی لیتے تھے۔
۳
؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی صرف لوبان سے اور کبھی لوبان و کافور کے مجموعہ سے دھونی لیا کرتے تھے میں بھی اس سنت پر عمل کرتا ہوں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور عادت کریمہ جو کام کیے وہ سنت زائدہ کہلاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4436