Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4461

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الْأَسْدِيُّ لَوْلَا طُولُ جُمَّتِهٖ وَإِسْبَالُ إِزَارِهٖ» فَبَلَغَ ذٰلِكَ خُرَيْمًا فَأَخَذَ شَفْرَةً فَقَطَعَ بِهَا جُمَّتَهٗ إِلٰى أُذُنيْهِ وَرَفَعَ إِزارَهٗ إِلٰى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن الحنظلية رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «نعم الرجل خريم الأسدي لولا طول جمته وإسبال إزاره» فبلغ ذلك خريما فأخذ شفرة فقطع بها جمته إلى أذنيه ورفع إزاره إلى أنصاف ساقيه رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے ابن حنظلیہ سے ۱؎جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب ہیں فرماتے ہیں فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ خریم اسدی۲؎اچھے آدمی ہیں اگر ان کے جمہ کی درازی اور ان کے تہبند کا گھسٹنا نہ ہوتا۳؎یہ خبر جناب خریم کو پہنچی تو انہوں نے چھری لی تو اس سے اپنے گیسو اپنے کانوں تک کاٹ دیئے اور اپنا تہبند اپنی آدھی پنڈلیوں تک اونچا کرلیا۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام سہیل ابن ربیع ابن عمرو ہے،حنظلیہ آپ کی ماں کا نام ہے،سہیل صحابی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک ہوئے،بڑے گوشہ نشین تاریک الدنیا عالم و عامل بزرگ تھے،لاولد تھے،شام میں قیام رہا،دمشق میں وفات ہوئی،امارت امیر معاویہ کے شروع میں وفات پائی۔
۲
؎آپ کا نام خریم ابن اخرم ابن شداد ابن عمرو ابن فاتک ہے،شام میں قیام رہا،صحابی ہیں،قبیلہ بن اسد سے ہیں جو یمن کا مشہور قبیلہ ہے۔
۳
؎یہ فرمان عالی حضرت خریم کی غیرموجودگی میں ہوا۔معلوم ہوا کہ کسی کی پس پشت اس کی برائی بیان کرنا درست ہے جب کہ اس کی اصلاح مقصود ہو،اگرچہ سر کے بالوں کا کچھ دراز ہونا ممنوع نہیں مگر چونکہ ان کی نیت اظہار فخر کی تھی اس لیے اس سے منع فرمادیا گیا ا س لیے بالوں کے ساتھ درازی تہبند کا ذکر فرمایا ورنہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے بال شریف کبھی دراز ہوتے تھے۔
۴
؎خیال رہے کہ مردوں کے لیے دونوں حکم ہیں یعنی سر کے بال کٹوانا تہبند اونچا پہننا،عورتوں کو یہ دونوں کام حرام ہیں عورتیں اپنے سر کے بال خود دراز رکھیں ہرگز نہ کٹوائیں تہبند نیچا باندھیں،ہاں احرام سے فارغ ہونے پر عورتیں بالوں کی نوکیں ایک پورا کٹوادیں۔(مرقات)یہ بھی خیال رہے کہ مرد کو لمبے بال رکھنا ان میں عورتوں کی سی مانگ چوٹی کرنا حرام ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4461