Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4464

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الأَنْصَارِيَّةِ: أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَخْتِنُ بِالْمَدِينَةِ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْهِكِي فَإِنَّ ذٰلِكَ أَحْظٰى لِلْمَرْأَةِ وَأَحَبُّ إِلَى البَعْلِ» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ: هٰذَا الْحَدِيثُ ضَعِيفٌ وَرَاوِيْهُ مَجْهُولٌ.

وعن أم عطية الأنصارية: أن امرأة كانت تختن بالمدينة. فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تنهكي فإن ذلك أحظى للمرأة وأحب إلى البعل» . رواه أبوداود وقال: هذا الحديث ضعيف وراويه مجهول.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام عطیہ انصاریہ سے ۱∞؎کہ ایک عورت مدینہ میں ختنہ کرتی تھی ۲؎اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ مبالغہ کرو کیونکہ یہ عورت کے لیے زیادہ نافع ہے اور خاوندکو زیادہ پسند ۳؎(ابوداؤد)اور فرمایا یہ حدیث ضعیف ہے اور اس کا راوی مجہول ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام نسیبہ بنت کعب ہے،کنیت ام عطیہ،عظیم الشان صحابیہ ہیں،قریبًا تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہیں غازیوں کی خدمت زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
۲
؎اس زمانہ میں قاعدہ یہ تھا کہ بچیوں کی پیدائش کے وقت دائی یا کوئی اور عورت بچی کے نال کے ساتھ کچھ پارۂ گوشت پیشاب کی جگہ کا بھی کاٹ دیا جاتا تھا اسے لڑکیوں کا ختنہ کہتے تھے،اس کے متعلق فرمایا کہ یہ پارۂ گوشت زیادہ نیچے سے نہ کاٹے اولًا تو حدیث صحیح نہیں اگر صحیح بھی ہو تو صرف جواز ثابت کرے گی،احناف کے ہاں لڑکی کا ختنہ مکروہ ہے۔
۳
؎جیسے بچہ کے ختنہ سے صفائی اچھی رہتی ہے ایسے ہی اس ختنہ سے صفائی زیادہ نصیب ہوتی ہے،اس سے صحبت میں زیادہ لذت ہوتی ہے،مرد کے ختنہ سے عورت کو لذت زیادہ اور عورت کے ختنہ سے مرد کو لذت زیادہ،اب اس کا دنیا میں غالبًا رواج نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4464