Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4440

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ:أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى عَلَيْهِ خَلُوقًا فَقَالَ: «أَلَكَ امْرَأَةٌ؟» قَالَ: لَا قَالَ: «فَاغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ

وعن يعلى بن مرة:أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى عليه خلوقا فقال: «ألك امرأة؟» قال: لا قال: «فاغسله ثم اغسله ثم اغسله ثم لا تعد» . رواه الترمذي والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت یعلیٰ ابن مرہ سے ۱؎کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر خلوق خوشبو دیکھی ۲؎تو فرمایا کیا تمہارے پاس بیوی ہے۳؎کہا نہیں فرمایا تو اسے دھو دو پھر دھو دو پھر دھو دو پھر آئندہ نہ کرو ۴؎(ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،اہلِ کوفہ میں آپ کا شمار ہے،صلح حدیبیہ،غزوہ خیبر،غزوہ حنین میں شریک رہے۔
۲
؎خلوق خ اور لام کے پیش سےعرب کی مشہور خوشبو ہے جو زعفران وغیرہ سے تیار کی جاتی ہے رنگت دیتی ہے۔
۳
؎یعنی اگر تمہارے بیوی ہو تو تم اس رنگت میں معذور ہو کہ اس نے رنگت والی خوشبو استعمال کی ہو اور اس کے کپڑوں سے تمہارے جسم یا کپڑوں میں خوشبو لگ گئی ہو،اس صورت میں تم معذور ہو اور اس خوشبو کے لگ جانے سے تم پر کوئی گناہ نہیں۔
۴
؎یا تو اس خوشبو کی رنگت ایسی تیز اور پختہ ہوگی جو تین بار دھوئے بغیر کپڑے سے چھوٹ نہ سکتی ہوگی اس لیے تین بار دھونے کا حکم دیا یا مبالغہ کے طور پر فرمایا کہ خوب اچھی طرح دھوؤ تاکہ بامشقت انہیں یاد رہے اور پھر یہ کبھی استعمال نہ کریں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4440