Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4442

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَدِمْتُ عَلٰى أَهْلِي مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ تَشَقَّقَتْ يَدَايَ فَخَلَّقُونِي بِزَعْفَرَانٍ فَغَدَوْتُ عَلَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ وَقَالَ: اذْهَبْ فَاغْسِلْ هٰذَا عَنْكَ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

وعن عمار بن ياسر قال: قدمت على أهلي من سفر وقد تشققت يداي فخلقوني بزعفران فغدوت على النبي صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه فلم يرد علي وقال: اذهب فاغسل هذا عنك . رواه أبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمار ابن یاسر سے فرماتے ہیں کہ میں سفر سے اپنے گھر والوں کے پاس آیا میرے ہاتھ پھٹ گئے تھے تو انہوں نے زعفران والی خلوق میرے لگادی ۱؎پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا میں نے آپ پر سلام عرض کیا تو مجھے جواب نہ دیا اور فرمایا جاؤ اسے اپنے جسم سے دھو دو ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎خلوقبغیر زعفران کی بھی ہوتی ہے اور زعفران والی اور یہ زخم کا علاج ہے جیسے آج کل ویسلین کہ اس میں خوشبو ہوتی ہے اوریہ زخموں وغیرہ کا علاج بھی ہے،انکے زخم پر زعفرانی خلوق لگائی گئی تھی علاج کے لیے۔
۲
؎غالبًا اسی پھٹن کا علاج خلوق کے سواء اوربھی ہوگا جیسے موم و تیل وغیرہ یا ا س پر ناراضی ہے کہ تم اسے لگائے ہوئے باہر کیوں آئے یا اس پر کہ تم نے خلوق پر پانی بہاکر اس کا رنگ کیوں زائل نہ کردیا ورنہ مجبوری و معذوری میں معافی ہوتی ہے۔ (مرقات واشعہ)اس سے معلوم ہوا کہ اعلانیہ ناجائز کا ارتکاب کر نے والے کے سلام کا جواب نہ دینا تاکہ وہ اس گناہ سے توبہ کرے درست ہے اور ممکن ہے کہ حضور نے آہستہ جواب دیا ہو جو انہوں سے سنا نہ گیا ہو،لہذا حدیث پر یہ سوال نہیں ہوسکتا کہ سلام کا جواب دینا فرض ہے پھر حضور نے جواب کیوں نہ دیا جبکہ بزرگ ہستی کے جواب سلام نہ دینے سے اس کے گناہ چھوڑ دینے کی امید ہو تب یہ جواب نہ دینا ایک قسم کی تبلیغ ہے یہ توجیہ خیال میں رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4442