Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4476

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " سَتُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الْعَجَمِ وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا: الْحَمَّامَاتُ فَلَا يَدْخُلَنَّهَا الرِّجَالُ إِلَّا بِالْأُزُرِ وَامْنَعُوهَا النِّسَاءَ إِلَّا مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ ". رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " ستفتح لكم أرض العجم وستجدون فيها بيوتا يقال لها: الحمامات فلا يدخلنها الرجال إلا بالأزر وامنعوها النساء إلا مريضة أو نفساء ". رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تمہارے لیے عجم کی زمین فتح کی جاوے گی ۱∞؎اور تم اس میں ایسے گھر پاؤ گے جنہیں حمامات کہا جاوے گا تو اس میں مرد نہ جائیں مگر تہبندوں کے ساتھ اور وہاں سے عورتوں کو منع کرو سواء بیمار کے یا نفاس والی کے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎عرب کے پانچ صوبوں کے سواء باقی کو عجم کہتے ہیں۔اس فتح عجم کی ابتداء زمانہ صدیقی سے ہی ہوچکی تھی پھر خلافت فاروقی و عثمانی میں توسبحان اللهمشرق و مغرب فتح ہوگئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی ہوبہو درست ہوئی۔
۲
؎یعنی عورتیں سواء ضرورت کے حمام میں ہرگز نہ نہائیں،مرد بلاضرورت بھی وہاں نہاسکتے ہیں مگر تہبند سے،وجہ فرق ابھی کچھ پہلے عرض کی جاچکی۔حضرت جبر ابن نفر فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت عمر کا فرمان آیا اس میں تھا کہ حمام میں مرد بغیر تہبند اور عورتیں بغیر بیماری کے نہ جائیں۔کھیل صرف تین قسم کے جائز ہیں: گھوڑا،بیوی،تیر۔حضرت ابوالدرداء حمام میں نہاتے اور اس کی بہت تعریف فرماتے تھے کہ حمام دوزخ کو یاد دلاتا ہے اور بدن کو صاف کرتا ہے یعنی وہاں کمرے کی بھڑک سے دوزخ کی بھڑک یاد آتی ہے۔(مرقات)بعض بیماریوں میں حمام میں نہانا بہت مفید ہے،نفاس والی عورت کو حمام سے بہت فائدہ ہوتا ہے اس لیے مریض اور نفاس کا ذکر فرمایا گیا یہ عورتیں بھی حتی الامکان پردہ سے وہاں نہائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4476