Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4481

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُاللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هٰذَا؟» قَالُوا: يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ فَأَمَرَ بِهٖ فَنُفِيَ إِلَى النَّقِيعِ. فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَلَا تَقْتُلُهٗ؟ فَقَالَ: «إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

وعن أبي هريرة قال: أتي رسولالله صلى الله عليه وسلم بمخنث قد خضب يديه ورجليه بالحناء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما بال هذا؟» قالوا: يتشبه بالنساء فأمر به فنفي إلى النقيع. فقيل: يا رسول الله ألا تقتله؟ فقال: «إني نهيت عن قتل المصلين» . رواه أبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مخنث لایا گیا ۱∞؎جس نے اپنے ہاتھ پاؤں مہندی سے رنگے ہوئے تھے۲؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا کیا حال ہے لوگوں نے عرض کیا کہ عورتوں کی شکل بناتا ہے تو حکم دیا اسے نقیع کیطرف نکال دیا گیا۳؎عرض کیا گیا یارسول اللہ کیا ہم اسے قتل نہ کریں فرمایا مجھے نمازیوں کے قتل سے منع کیا گیا ہے۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎محنث کا بیانکتاب النکاحمیں گزر چکا ہے کہ پیدائشی مخنث ہونا فسق نہیں وہ تو قدرتی چیز ہے،ہاں بہ تکلف مخنث بننا،اپنی آواز،لباس،وضع قطع عورتوں کی رکھنا فسق ہے۔
۲
؎عورتوں کی سی شکل بنانے کے لیے یہ حرکات کرتا تھا جیسا آج کل ہیجڑوں میں دیکھا جاتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیماری بڑی پرانی ہے۔
۳
؎نقیع مدینہ منورہ کے باہر ایک جنگل ہے جہاں اہلِ مدینہ کے جانور چرا کرتے تھے۔اس مخنث کو اس لیے نکال دیا تاکہ اہل مدینہ اس کی صحبت سے بچیں اور اسے عبرت ہو اور توبہ کرے اور پھر واپس آجائے،یہ مطلب نہیں کہ اسے اس حرکت سے منع نہیں فرمایا گیا یہ نکالنا عملی ممانعت ہے۔
۴
؎یعنی اس مخنث کا نمازیں پڑھنا اس کے مؤمن ہونے کی علامت ہے اور اس نے کوئی ایسا جرم کیا نہیں جس کی سزا قتل ہو جیسے زنا یا ظلمًا قتل لہذا اسے قتل نہیں کیا جاسکتا۔اس فرمان عالی کا یہ مطلب نہیں کہ نمازی آدمی خواہ کیسا ہی جرم کرے اسے قتل نہیں کیا جاسکتا۔خیال رہے کہ یہ مخنث اگر منافق تھا تب تو کوئی اعتراض نہیں اور اگر مخلص مؤمن تھا تو اس نے یقینًا توبہ کرلی ہوگی توبہ کرکے مرا ہوگا کیونکہ اس صورت میں وہ صحابی ہے اور صحابہ تمام عادل ہیں کوئی فاسق نہیں یعنی کوئی صحابی گناہ پر قائم نہیں رہے ان کی عدالت کی گواہی قرآن کریم دے رہا ہے،دیکھو ہماری کتاب امیرمعاویہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4481