Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4462

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَتْ لِي ذُؤَابَةٌ فَقَالَتْ لِي أُمِّي: لَا أَجُزُّهَا كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُدُّهَا وَيَأْخُذُهَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

وعن أنس قال: كانت لي ذؤابة فقالت لي أمي: لا أجزها كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمدها ويأخذها. رواه أبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ میرے گیسو تھے میری والدہ نے فرمایا کہ میں انہیں نہ کاٹوں گی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھینچتے اور انہیں پکڑتے تھے ۱∞؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎چنانچہ حضرت انس نے اپنے اگلے سر کے بال کبھی نہ کٹوائے انہیں قبر میں ساتھ لے گئے کیونکہ ان بالوں کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک لگا کرتے تھے حالانکہ سر کے بعض بال رکھنا بعض کٹوانا ممنوع ہے مگر اس خصوصیت نے یہ ممانعت دور کردی۔اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی مس کی ہوئی چیزوں سے تبرک حاصل کرنا سنت صحابہ ہے،مدینہ منورہ کی زمین پاک کی خاک بھی تبرک ہے کہ اسے کبھی وہ تلوے لگے ہیں جو عرش اعظم پر گئے تھے۔شعر
کہاں یہ مرتبے اللہ اکبر سنگ اسود کے یہاں کے پتھروں نے پاؤں چومے ہیں محمد کے
اس حدیث سے تصوف کے بہت مسائل حاصل ہوسکتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت انس سے ان کے بچپن سے ہی بڑی محبت تھی،حضور پیار میں ان کے سر کے اگلے حصہ پر ہاتھ شریف رکھتے بالوں کو بٹتے تھے،آپ اس واقعہ کی طرف اشارہ فرما رہی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4462