Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4427

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأٰى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ رَأْسِهٖ وَتُرِكَ بَعْضُهٗ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذٰلِكَ وَقَالَ: احْلِقُوا كُلَّهٗ أَوِ اتْرُكُوا كُلَّهٗ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن عمر: أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى صبيا قد حلق بعض رأسه وترك بعضه فنهاهم عن ذلك وقال: احلقوا كله أو اتركوا كله . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچہ دیکھا جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا گیا ا ور کچھ چھوڑ دیا گیا تھا تو انہیں اس سے منع فرمایا اور فرمایا کُل سر مونڈو یا کل چھوڑو ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ کل سر منڈانا جائز ہے مگر بہتر نہیں سواء احرام سے کھلنے کے وقت کہ وہاں سر منڈانا بہتر ہے باقی حالات میں منڈانا بہتر نہیں کہ سواء حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کسی صحابی نے سر نہ منڈایا نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے۔(مرقات) حضرت علی کے سر منڈانے کی حکمت شروع کتاب میں عرض کی گئی۔اس زمانہ میں تو سر منڈانا بہت ہی برا ہے کہ وہابیوں کی علامت ہے،حضور نے وہابیوں کے متعلق ارشاد فرمایاسیماھم التحلیقان کی علامت سر منڈانا ہوگی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ انگریزی بال رکھنا یا قلمیں بنوانا سب ممنوع ہے کہ اس میں قزع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4427