Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4472

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اكْتَحِلُوا بِالْإِثْمِدِ فَإِنَّهٗ يَجْلُو الْبَصَرَ وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ» . وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهٗ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ بِهَا كُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَةً فِي هٰذِهٖ وَثَلَاثَةً فِي هٰذِه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «اكتحلوا بالإثمد فإنه يجلو البصر وينبت الشعر» . وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كانت له مكحلة يكتحل بها كل ليلة ثلاثة في هذه وثلاثة في هذه. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اثمد سرما لگایا کرو ۱∞؎کہ وہ نگاہ میں جلا دیتا ہے اور بال اگاتا ہے۲؎انہوں نے گمان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سرمہ دانی تھی جس میں سے ہر رات سرمہ لگاتے تھے تین سلائیاں اس آنکھ میں اور تین اس میں ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ہمیشہ اثمد سرمہ لگایا کرو۔اثمد الف اور میم کے کسرہ ث کے سکون سے ایک خاص سرمہ کا نام ہے جسے اصفہانی سرمہ کہا جاتا ہے یہ ہلکے سرخ رنگ کا سرمہ ہوتا ہے اس بار حج کے موقعہ پر یہ سرمہ مجھے مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ سے ملا۔بعض شارحین کا قول ہے کہ عام سیاہ سرمہ کو ہی اثمد کہتے ہیں۔بعض نے کہا کہ تیہ کا نام اثمد ہے،بعض نے کہا کہ جس سرمہ میں تھوڑا مشک حل کرلیا جاوے وہ اثمد ہے مگر پہلا قول زیادہ قوی ہے، عرب میں اب بھی اسی خاص لال سرمہ کو اثمد کہا جاتا ہے۔
۲
؎یعنی اثمد سرمہ آنکھوں کی روشنی زیاہ کرتا ہے،پلک کے بال دراز کرتا ہے اگر نہ ہوں تو اگاتا ہے۔مرقات میں ہے کہ یہ آنکھ کا پانی خشک کرتا ہے،آنکھ کے زخم اچھے کرتا ہے،نگاہ قائم رکھتا ہے غرضکہ اس میں بہت فائدے ہیں مگر اس کے لیے جسے موافق آجاوے بعض لوگوں کو موافق نہیں آتا۔غرضکہ طبیب کی رائے سے اسے استعمال کرنا چاہیے۔
۳
؎اس طرح کہ پہلے داہنی آنکھ میں دو سلائیاں پھر بائیں آنکھ میں تین پھر داہنی میں ایک اس طرح کہ ابتداءبھی داہنی سے ہو انتہاءبھی داہنی پر،ہمیشہ رات کو سوتے وقت اس طرح سرمہ لگانا فقیری اور ضعف بصر کو دور کرتا ہے۔بعض روایات میں ہے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے وقت داہنی آنکھ میں تین سلائیاں اور بائیں میں دو لگایاکرتے تھے ہوسکتا ہے کہ کبھی یہ عمل ہو کبھی وہ لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔ یہاںزعمکا فاعل حضرت ابن عباس ہیں اورزعمبمعنی قول ہے نہ کہ بمعنی وہم،عربی میں بہت دفعہزعمبمعنی قول استعمال ہوتا ہے۔بعض شارحین نے کہا کہزعمکا فاعل محمد ابن حمید ہیں جو امام ترمذی کے شیخ ہیں مگر پہلا احتمال قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4472