Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4426

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهٰى عَنِ الْقَزَعِ. قِيلَ لِنَافِعٍ: مَا الْقَزَعُ؟ قَالَ: يُحْلَقُ بَعْضُ رَأْسِ الصِّبِيِّ وَيُتْرُكُ البَعْضُ .(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَأَلْحَقَ بَعْضُهُمْ التَّفْسِيرَ بِالْحَدِيثِ.

وعن نافع عن ابن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ينهى عن القزع. قيل لنافع: ما القزع؟ قال: يحلق بعض رأس الصبي ويترك البعض .(متفق عليه) وألحق بعضهم التفسير بالحديث.

حدیث ترجمہ

روایت ہے نافع سے وہ حضرت ابن عمر سے راوی فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کہ آپ قزع سے منع فرماتے ہیں ۱؎نافع سے کہا گیا کہ قزع کیا ہے فرمایا کہ بچے کے سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا جاوے اور کچھ حصہ چھوڑ دیا جاوے۲؎(مسلم،بخاری) اور بعض محدثین نے اس تفسیر کو حدیث سے ملایا ہے۳؎

شرح حدیث

۱∞؎قزعقاف کے فتحہ سے بمعنی بادل کے ٹکڑے،اب اصطلاح میں سر کا بعض حصہ منڈوانے یا کترانے اور بعض رکھانے کوقزعکہتے ہیں اسے بادل کے ٹکڑوں سے تشبیہ دیتے ہوئے،یہ ممانعت بچوں بڑوں سب کے لیے ہے۔مجبوری کے حالات اس سے علیٰحدہ ہیں جیسے کبھی سر سام میں بیمار کا تالو کھول دیا جاتا ہے یعنی صرف بیچ کھوپڑی کے بال مونڈدیئے جاتے ہیں ویسے بلاضرورت ممنوع ہے کہ کراہت تنزیہی ہے،انگریزی حجامت بھی قزع ہے۔
۲
؎بچوں کا ذکر اتفاقًا ہے کہ عرب میں بچوں ہی کی حجامت اس طرح کی جاتی ہے ورنہ یہ ممانعت چھوٹے بڑوں سب کے لیے ہے۔
۳
؎یعنی اس روایت میں اسطرح مروی ہے کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی یہ تفسیر ارشاد فرمائی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4426