Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4460

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ لَهٗ شَعْرٌ فَوْقَ الْجُمَّةِ وَدُونَ الوَفْرَةِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيّ

وعن عائشة قالت: كنت أغتسل أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم من إناء واحد وكان له شعر فوق الجمة ودون الوفرة. رواه الترمذي والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک برتن سے غسل کیا کرتے تھے ۱؎اور آپ کے بال شریف جمہ سے زیادہ اور وفرہ سے کم تھے۲؎(ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎ایک برتن سے اور ایک ساتھ غسل کرتے تھے پردہ سے کہ دونوں حضرت تہبند باندھے ہوتے تھے۔اس کی بحثکتاب الغسلمیں گزرچکی ہے۔وہ حضرات برہنہ ہوکر کبھی غسل نہ کرتے تھے،مستحب بھی یہ ہی ہے کہ غسل خانہ میں بھی تہبند باندھ کر غسل کرے،حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک دوسرے کا ستر نہ دیکھا،ستر سے مراد ناف سے گھٹنے تک کا بدن ہے یہ دونوں ہستیاں پہلے اپنے ہاتھ دھولیتے تھے پھر بڑے برتن سے چلو لیتے تھے تاکہ پانی مستعمل نہ ہوجاوے اور اسطرح غسل فرماتے تھے کہ بدن کا غسالہ برتن میں نہیں پڑتا تھا۔
۲
؎تابگوش بالوں کو وفرہ کہا جاتا ہے اور تابدوش کو لمہ ان دونوں کے درمیان کو جمہ یعنی حضور کے بال شریف کندھوں تک نہ ہوتے تھے کندھوں سے قریب ہوتے تھے کان کی گدیوں سے نیچے اور کندھوں سے اوپر یہ اکثری حالت کا ذکر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4460