Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4478

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ ثَابِتٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: لَوْ شِئْتَ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأْسِهٖ فَعَلْتُ قَالَ: وَلَمْ يَخْتَضِبْ زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَقَدِ اخْتَضَبَ أَبُو بَكْرٍ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَاخْتَضَبَ عُمَرُ بِالْحِنَّاءِ بَحْتًا. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عن ثابت قال: سئل أنس عن خضاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال: لو شئت أن أعد شمطات كن في رأسه فعلت قال: ولم يختضب زاد في رواية: وقد اختضب أبو بكر بالحناء والكتم واختضب عمر بالحناء بحتا. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثابت سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ حضرت انس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا کہ اگر میں چاہتا کہ وہ سفید بال گنوں جو آپ کے سر میں تھے تو کرلیتا ۲؎فرمایا اور خضاب نہ کیا،ایک روایت میں یہ زیادہ ہے کہ حضرت ابوبکر نے مہندی اور وسمہ سے خضاب کیا۳؎اور حضرت عمر نے خالص مہندی سے خضاب کیا۔ (مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام ثابت ابن اسلم بنانی ہے،کنیت ابو محمد،بصرہ کے مشہور بڑے عابد تابعی ہیں،حضرت انس کے ساتھ چالیس سال تک رہے،چھیاسی سال عمر پائی، ۱۲۳؁∞ ایک سو تئیس میں وفات ہوئی،آپ اکثر حضرت انس سے روایات لیتے ہیں۔
۲
؎یعنی سر شریف اور ڈاڑھی مبارک میں چند گنتی کے بال سفید تھے جو شمار میں آجاتے پھر خضاب کیسے ہوتا۔
۳
؎یعنی حضرت ابوبکر صدیق نے پکا لال رنگ کا خضاب کیا جو مہندی اور تھوڑے وسمہ سے حاصل ہوتا ہے اتنا وسمہ شامل نہ کیا کہ سیاہ ہوجاوے کہ سیاہ خضاب مطلقًا ممنوع ہے اور حضرت عمر نے خالص مہندی کا سرخ خضاب کیا لہذا خضاب سنت صحابہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4478