Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4425

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدُلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرِقُونَ رؤوسهم فَسَدَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهٗ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن ابن عباس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب موافقة أهل الكتاب فيما لم يؤمر فيه وكان أهل الكتاب يسدلون أشعارهم وكان المشركون يفرقون رؤوسهم فسدل النبي صلى الله عليه وسلم ناصيته ثم فرق بعد (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کاموں میں جس میں خاص حکم نہ دیا گیا ہو اہلِ کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے ۱؎اور اہل کتاب اپنے بالوں کو کھلے رکھتے تھے۲؎اور مشرکین اپنے سروں میں مانگ نکالتے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی کے بال کھلے چھوڑے ۳؎پھر بعد میں مانگ نکالی۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎موافقت اور مشابہت میں بڑا فرق ہے کفار سے مشابہت بہرحال حرام ہے موافقت جائز ہے مگر جائز چیزوں میں۔مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں سے حضور انور کو منع نہیں فرمایا گیا ان میں ایسے کام اختیار فرماتے تھے جو مشرکین کے مخالف ہوں اہلِ کتاب کے موافق۔
۲
؎یعنی سر کے بالوں میں مانگ نہ نکالتے تھے یوں ہی کھلے ہوئے چھوڑ دیتے تھے۔
۳
؎پیشانی سے مراد سر ہے،بعض روایات میںراسہہے یعنی حضور انور نے مانگ نہ نکالی بلکہ بال شریف کھلے رکھے۔
۴
؎کیونکہ جبریل امین نے حضور انور سے یہ ہی عرض کیا کہ مانگ نکالا کریں،چنانچہ اب مسلمانوں کو یہ ہی سنت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4425