Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4463

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَالَ: «لَا تَبْكُوا عَلٰى أَخِي بَعْدِ الْيَوْمِ» . ثُمَّ قَالَ: «اُدْعُوا لِي بَنِي أَخِي» . فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ فَقَالَ: «اُدْعُوا لِيَ الْحَلَّاقَ» فَأَمَرَهٗ فَحَلَقَ رُؤُوسَنَارَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعن عبد الله بن جعفر: أن النبي صلى الله عليه وسلم أمهل آل جعفر ثلاثا ثم أتاهم فقال: «لا تبكوا على أخي بعد اليوم» . ثم قال: «ادعوا لي بني أخي» . فجيء بنا كأنا أفرخ فقال: «ادعوا لي الحلاق» فأمره فحلق رؤوسنارواه أبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن جعفر سے ۱∞؎کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی۲؎پھر ان کے پاس تشریف لائے فرمایا آج کے بعد میرے بھائی پر نہ رونا۳؎پھر فرمایا کہ میرے بھتیجوں کو میرے پاس بلاؤ۴؎چنانچہ ہم کو لایا گیا گویا کہ ہم چوزے تھے تو فرمایا کہ نائی کو میرے پاس بلاؤ اسے حکم دیا اس نے ہمارے سر مونڈ دیئے ۵؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎حضرت جعفر بھی صحابی ہیں اور ان کے بیٹے عبداللہ ابن جعفربھی حضرت جعفر جناب علی مرتضٰی کے بھائی ہیں اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد کیونکہ جعفر ابن ابی طالب ہیں،حضرت جعفر غزوہ موتہ میں شہید ہوئے یہاں اسی کاذکر ہے۔
۲
؎تعزیت کے لیے بیٹھنے اور عزیز و اقرباء کے تسلی دینے کے لیے آنے کی مہلت تین دن تک دی جیسے آج کل میت والے تین دن تک چٹائی ڈالتے ہیں یہ سنت سے ثابت ہے اس کا یہاں ذکر ہے،بعض لوگ ان دنوں میں میت کے لیے فاتحہ پڑھتے رہتے ہیں یہ بھی بہت اچھا ہے۔
۳
؎یہاں رونے سے مراد آنکھ کے آنسو نہیں بلکہ تعزیت کے لیے بیٹھنا اور چہرے سے غم کے آثار کا ظاہر ہونا ہے۔کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا حرام ہے سواء خاوند کے کہ اس کی بیوہ بیوی چار ماہ دس دن سوگ کرے۔
۴
؎یعنی حضر ت جعفر کے بچوں کو جو اب یتیم ہوچکے تھے۔یہ واقعہ غزوہ موتہ کے بعد کا ہے جس میں حضرت جعفر شہید ہوئے تھے،ان کے بچوں کے بال بڑھے ہوئے تھے اس لیے چڑیا کے بچوں سے تشبیہ دی گئی۔
۵
؎اس سے معلوم ہوا کہ یتیم عزیزوں کی خبرگیری کرنا ان کی ضروریات پوری کرنا سنت ہے اور یہاں بال منڈوا دینا علامت تھی مدت تعزیت ختم ہوجانے کی۔خیال رہے کہ احرام سے کھلتے وقت کے سواء اور موقعوں پر بال منڈوانا اچھا نہیں مگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے خیال فرمایا کہ اب ان کی والدہ حضرت اسماء بنت عمیس ان کی بالوں کی نگرانی و خدمت نہ کرسکیں گی اپنی عدت وغم میں گرفتار رہیں گی اس لیے حضور نے ان کے سر منڈوا دیئے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یتیموں کا والی تصرف کرسکتا ہے جیسے حجامت اور ختنہ وغیرہ۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4463