Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4459

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ كَانَتْ لَهٗ نُورًا يَوْمَالْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ

وعن كعب بن مرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من شاب شيبة في الإسلام كانت له نورا يومالقيامة» . رواه الترمذي والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کعب ابن مرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا ۱؎(ترمذی،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی سفید ریش والے مؤمن کے لیے قیامت میں نور ہوگا کہ اس کی سفید ڈاڑھی نورانی ہوگی یا نور کا باعث ہوگی اس دن سواء ابراہیم علیہ السلام کے ڈاڑھی کسی کے نہ ہوگی مگر یہ سفید ڈاڑھی چہرہ کے نور کا باعث ہوگی۔ان دونوں حدیثوں کی بناء پر حضرت علی،سلمہ ابن اکوع،ابی ابن کعب اور بہت صحابہ کرام نے کبھی خضاب نہ لگایا اپنی ڈاڑھی اور سر سفید رکھے،وہ فرماتے تھےکہ چٹی ڈاڑھی نور اور درجات کا باعث ہو گی ۔بعض صحابہ کرام اور حضرت حسن و حسین نے خضاب لگایا گزشتہ احادیث کی بنا پر لہذا دونوں عمل جائز ہیں۔علماء فرماتے ہیں کہ اگر اپنے شہر میں خضاب کا رواج عام ہو تو خضاب کرنا بہتر ہے،اگر سفید ڈاڑھی کا رواج عام ہو تو سفید رکھنا بہتر اور جہاد کے موقع پر خضاب افضل۔(مرقات)یوں ہی اگر ہمارے شہر یا ملک میں یہودی سکھ عام ہوں جو خضاب نہیں کرتے تو خضاب کرنا افضل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4459