Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4451

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهٖ الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أحسن ما غير به الشيب الحناء والكتم. رواه الترمذي وأبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ بہترین وہ چیز جس سے تم بڑھاپے کی علامت بدلو مہندی اور وسمہ ہے ۱؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث کی بنا پر بعض حضرات نے سیاہ خضاب جائز کہا،وہ کہتے ہیں کہ مہندی اور وسمہ مل کر سیاہ رنگ دیتے ہیں اور ان کے ملاکر لگانے کی اجازت دی گئی ہے مگر یہ دلیل بہت ہی ضعیف ہے کیونکہ سیاہ خضاب کی صراحۃً ممانعت کی گئی جیسےکہاتقوا السوادوغیرہ مگر سیاہ خضاب کی صراحۃً اجازت کہیں نہیں دی گئی ان جیسی احادیث سے سیاہ خضاب کی اجازت نہیں نکلتی اولًا تو یہاں مہندی وسمہ ملانے کی اجازت ہے ہی نہیں، حدیث کے معنی یہ ہیں کہ بہترین رنگ سفیدی بدلنے کے لیے مہندی اور وسمہ ہے کہ کبھی مہندی سے رنگ کرے کبھی وسمہ سے،مہندی کا رنگ سرخ ہوتا ہے وسمہ کا رنگ سبز جیسے کہا جاتا ہے کلمہ اسم ہے اور فعل ہے اور حرف ہے ایسے ہی یہ ہے اور اگر ملانا ہی مراد ہو تب بھی خیال رہے کہ اگر وسمہ مہندی کے ساتھ آدھوں آدھ یا زیادہ ملایا جاوے تب سیاہ رنگ دیتا ہے اور اگرکم ملایا جاوے تو پختہ سرخ کرتا ہے سیاہ نہیں کرتا سرخ مائل بہ سبزی رنگ ہوجاتا ہے وہ ہی یہاں مراد ہے،سیاہ خضاب کی سخت ممانعت احادیث میں وارد ہے،یہ حدیث ان احادیث سے متعارض نہیں اگر یہاں سیاہ رنگ مراد ہو تو احادیث میں تعارض ہوگا۔(مرقات و اشعہ و لمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4451