Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4435

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا نَجِدُ حَتّٰى أَجِدَ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهٖ وَلِحْيَتَهٖ. (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: كنت أطيب النبي صلى الله عليه وسلم بأطيب ما نجد حتى أجد وبيص الطيب في رأسه ولحيته. (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے موجود بہترین خوشبو تیار کرتی تھی ۱؎حتی کہ خوشبو کی چمک آپ کے سر اور آپ کی ڈاڑھی میں پائی جاتی تھی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اطیبکے دو معنی ہوسکتے ہیں: خوشبو تیار کرتی تھی یا خوشبو لگاتی تھی۔حضور سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو بہت ہی پسند تھی اس لیے ازواج مطہرات خصوصًا ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا حضور انور کے لیے خوشبو تیار کیا کرتی تھیں حتی کہ احرام کھولتے وقت بھی خوشبو تیار کی گئی تھی۔
۲
؎یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک اور ڈاڑھی شریف میں خوشبو لگاتے تھے اور وہ خوشبو اس قدر زیادہ ہوتی تھی کہ بالوں میں اس کی چمک دیکھی جاتی تھی،یہ چمک خوشبو کا رنگ نہ تھا چمک تھی،چمک تو پانی کی بھی محسوس ہوجاتی ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ مردوں کی خوشبو بغیر رنگ والی چاہیے کہ وہاں رنگ سے مراد زینت والا رنگ ہے اس کی ممانعت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4435