Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4453

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَيَصْفِرُّ لِحْيَتَهٗ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذٰلِكَ. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يلبس النعال السبتية ويصفر لحيته بالورس والزعفران وكان ابن عمر يفعل ذلك. رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سبتی جوتے پہنتے تھے ۱؎اور اپنی ڈاڑھی شریف کو ورس ۲؎اور زعفران سے رنگتے تھے۳؎اور حضرت ابن عمربھی یہ کرتے تھے۴؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎جس کی کھال کے بال اڑا دیئے گئے ہوں۔سبتبمعنی حلق(منڈانا)عام عرب بال والے جوتے پہنتے تھے اب عمومًا بے بال کے جوتے بنتے ہیں۔
۲
؎ورسایک گھاس ہے جو یمن میں پیدا ہوتی ہے پیلا رنگ دیتی ہے۔
۳
؎اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو کے لیے یہ گھاس یا زعفران ڈاڑھی شریف میں ملتے تھے جس سے ان کا رنگ سیاہ بالوں میں نمودار ہوجاتا تھا خضاب کے لیے نہیں کیونکہ حضور کی ڈاڑھی شریف سفید ہوئی نہیں پھر خضاب کیسا لہذا یہ حدیث حضرت انس کی حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ حضور انور نے خضاب نہ کیا،آپ کے کل بیس بال سفید تھے۔(اشعۃاللمعات)مرقات نے کچھ اور توجیہ کی ہے مگر یہ توجیہ قوی ہے اور اس سے احادیث کا اجتماع ہوجاتا ہے۔
۴
؎معلوم ہوا کہ زرد خضاب جائز ہے صرف سیاہ منع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4453