Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4446

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا بِمَكَّةَ قَدْمَةً وَلَهٗ أَرْبَعُ غَدَائِرَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ

وعن أم هانئ قالت: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم علينا بمكة قدمة وله أربع غدائر. رواه أحمد وأبوداود والترمذي وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام ہانی سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس مکہ میں تشریف آوری فرمائی ۱؎اس دن آپ کے چارگیسو تھے ۲؎(احمد،ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا فتح مکہ کے دن کی تشریف آوری مراد ہے جب حضور نے ام ہانی کے گھر میں غسل بھی کیا اور نماز چاشت بھی پڑھی تھی بعد ہجرت حضور صلی اللہ علیہ وسلم چار بار مکہ معظمہ تشریف لے گئے عمرہ قضا کے لیے،فتح مکہ کے لیے،عمرہ ہجرانہ کے لیے اور حجۃ الوداع کے لیے۔حضور انور نے چار عمرے کیے ہیں اور ایک حج،تین عمرے ذیقعدہ ہی میں ایک عمرہ جو حج الوداع کے ساتھ کیا وہ ذی الحجہ میں۔یہ واقعہ جو آپ بیان فرمارہی ہیں وہ فتح مکہ کے دن کا ہے۔
۲
؎بٹے ہوئے بالوں کوغدیرہ ضفیرہکہا جاتا ہے جس کی جمعغدائراورضفائرہے یعنی اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں مبارک کو چارحصوں میں کیا ہوا تھا دو حصے بٹ کر داہنے ہاتھ کی طرف لٹکے ہوئے تھے اور دو حصے بائیں جانب۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4446