Main Icon

باب:کنگھی کرنے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4467

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: أَوَمَتِ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ سِتْرٍ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهٗ فَقَالَ: َا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ؟ قَالَتْ:بَلْ يَدُ امْرَأَةٍ قَالَ: َوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ يَعْنِي الْحِنَّاء. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعنها قالت: أومت امرأة من وراء ستر بيدها كتاب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقبض النبي صلى الله عليه وسلم يده فقال: ا أدري أيد رجل أم يد امرأة؟ قالت:بل يد امرأة قال: و كنت امرأة لغيرت أظفارك يعني الحناء. رواه أبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے جس کے ہاتھ میں کوئی تحریر تھی پردے کے پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ روک لیا ۱∞؎فرمایا میں نہیں جانتا کہ مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا ہاتھ ہے وہ بولی بلکہ عورت کا ہاتھ ہے ۲؎فرمایا اگر تو عورت ہوتی تو اپنے ناخن میں تبدیلی کر لیتی یعنی مہندی سے۳؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنا ہاتھ شریف روک لیا اس کے ہاتھ سے خط نہ لیا اظہار ناراضی کے لیے حضور انور نے کسی اجنبی عورت کو ہاتھ نہ لگایا حتی کہ ان کو زبان سے بیعت فرمایا۔
۲
؎یہ سوال و جواب بھی اظہارِ ناراضی کے لیے ہیں ورنہ حضور کو خبرتھی کہ یہ عورت کا ہاتھ ہے عورت کا ہاتھ چھپا نہیں رہتا پھر اس کی آواز پہچانی جاتی ہے۔
۳
؎معلوم ہوا کہ عورت مہندی وغیرہ سے اپنے ناخن رنگین کرے یہ بھی کافی ہے یا مہندی سے ہتھیلیاں رنگے یا صرف ناخن،آج کل ناخن پر پالش لگانے کا رواج ہے مگر پالش میں جسامت ہوتی ہے اس لیے اگر ناخنوں پر لگی ہو تو عورت کا وضو یا غسل نہ ہوگا کہ پالش کے نیچی پانی نہ پہنچے گا۔غرضیکہ ایسی چیز لگائی جاوے جو صرف رنگ دے اس میں جسامت نہ ہو،ابھی جو حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت میں گزرا کہ حضور انور کو مہندی پسند نہ تھی یہ اپنی ازواج پاک کے متعلق تھا کہ حضور انور کی ازواج مطہرات کے لیے مہندی بہتر نہ تھی عام عورتوں کے لیے مہندی بہتر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4467