Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4146

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُوْنَ أَشْيَاءَ، وَيَتْرُكونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا، فَبَعَثَ اللّٰهُ نَبِيَّهٗ، وَأَنْزَلَ كِتَابَهٗ، وَأَحَلَّ حَلَالَهٗ، وَحَرَّمَ حَرَامَهٗ،فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فهوَ عفْوٌ، وتَلَا قُلْ لَا أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُوْنَ مَيْتَةً الايه. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

عن ابن عباس قال: كان أهل الجاهلية يأكلون أشياء، ويتركون أشياء تقذرا، فبعث الله نبيه، وأنزل كتابه، وأحل حلاله، وحرم حرامه،فما أحل فهو حلال، وما حرم فهو حرام، وما سكت عنه فهو عفو، وتلا قل لا أجد في ما أوحي إلي محرما على طاعم يطعمه إلا أن يكون ميتة الايه. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جاہلیت والے لوگ کچھ چیزیں کھاتے تھے اور کچھ چیزیں گھن کرتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے ۱؎تب اللہ نے اپنے نبی کو بھیجا اور اپنی کتاب اتاری اور حلال کو حلال فرمایا حرام کو حرام ٹھہرایا ۲؎تو جو حلال کر دیں وہ حلال ہیں اور جو حرام کردیں وہ حرام ہیں اور جن سے خاموشی فرمائی وہ معاف ہیں۳؎اوریہ آیت تلاوت کی فرما دو میں اپنی وحی میں کوئی چیزکسی کھانے والے پر جسے وہ کھالے حرام نہیں پاتا مگر یہ کہ ہو مردار،پوری آیت۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱؎یعنی ان کے ہاں حرام و حلال کا کوئی قاعدہ نہ تھا محض اپنی رائے سے بعض چیزوں کو حرام سمجھتے تھے بعض کو حلال،محض لاقانونی تھی کیونکہ تعلیم ابراہیمی دنیا سے گم ہوچکی تھی،آج بھی مشرکین ہندکے دین میں کوئی قانون نہیں،بعض ہندو ہر جانور کو حرام سمجھتے ہیں، بعض صرف گائے کو،بعض فرقے ان میں کے گائے بھی کھالیتے ہیں،یوں ہی حرام و حلال عورتوں کے لیے کوئی قانون نہیں،نہایت نفیس قوانین تو اسلام ہی کے ہیں۔
۲
؎یعنی جو چیزیں حلال ہونے کے قابل تھیں انہیں حلال کیا اور جو چیزیں حرام ہونے کے قابل تھیں انہیں حرام کیا،یہود پربعض طیب چیزیں بھی حرام کردی گئی تھیں جیسے حلال جانوروں کی بعض چربیاں اور عیسائیوں پر بعض خبیث چیزیں بھی حلال کردی گئی تھیں جیسے شراب۔اسلام دین فطرت ہے،اس میں بری چیزوں کو حرام کیا گیا ہے اور اچھی چیزوں کو حلال۔
۳
؎خلاصہ یہ ہے کہ چیزیں تین قسم کی ہیں:وہ جن کا حلال ہونا قرآن یا حدیث میں صراحۃً مذکور ہے،وہ جن کا حرام ہونا قرآن یا حدیث میں صراحۃً مذکور ہے،وہ جن کا ذکر نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں،پہلی قسم حلال قطعی ہے،دوسری قسم حرام قطعی،تیسری قسم معاف یعنی وہ بھی حلال ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام چیزوں میں اصل اباحت ہے کہ جن سے سکوت یعنی خاموشی ہے وہ مباح ہے،یہ اسلام کا کلیہ قانون ہے جس سے لاکھوں چیزوں کے حال معلوم ہوسکتے ہیں۔آم مالٹا وغیرہ کیوں حلال ہیں اس لیے کہ شریعت میں ان کی ممانعت نہیں آئی۔خیال رہے کہ انسانی نباتات بھی کھانا ہے جیسے سبزیاں،دانے،کبھی جمادات بھی جیسے موتی عنبر،مشک وغیرہ حیوانات بھی۔نباتات و حیوانات کے لیے قاعدہ یہ ہے کہ جو سبزیاں یا دانہ صحت کو مضر ہو وہ حرام،جو مضر نہ ہو وہ حلال حتی کہ سنکھیا بھی مارکر کھایا جائے تو حلال۔حیوانات بعض حرام ہیں،بعض حلال،قرآن کریم نے حرام بعینہ صرف ایک جانور کا ذکر کیا یعنی سؤر کا وہ بھی اس کے گوشت کا ذکر فرمایا،باقی حرام لغیرہ میں آٹھ جانوروں کا ذکر فرمایامیتۃ منخنقۃوغیرہ،باقی تمام حرام جانوروں کو حدیث پاک نے بیان فرمایا،کتا،بلی،ریچھ،ہاتھی،گدھا وغیرہ حضور انور نے ہی حرام کیے،سؤر کا صرف گوشت قرآن پاک نے حرام کیا،باقی اس کے کلیجی گردے،چربی حدیث نے حرام کی،پھر ان حرام جانوروں کی حرمت بعد ہجرت قرآن پاک میں آئی۔مدنی سورتوں میں ہی حرام عورتوں،حرام غذاؤں کا ذکر ہے مگر حضور انور نے قبل ہجرت ہی ان سب سے مسلمانوں کو منع فرمادیا تھا،مسلمانوں کو کبھی ماں بہن سے نکاح اور سؤر کتا بلی کھانے کی اجازت نہ دی۔معلوم ہوا کہ حرام و حلال فرمانے والے حضور نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں۔اس کی بحث ہماری تفسیرنعیمی پارہ ہشتم میں ملاحظہ کرو۔۴؎یعنی اس آیت نے بھی یہ ہی بتایا کہ جس کی حرمت نہ ملے وہ حلال ہے،اصل اشیاء میں اباحت ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب جاءالحق حصہ اول میں دیکھو اور راہ جنت میں ملاحظہ کرو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4146