Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4108

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّهٗ رَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَعَقَرَهٗ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهٖ شَيْءٌ؟ " قَالَ: مَعَنَا رِجْلُهُ، فَأَخَذَهَا فَأَكَلَهَا. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي قتادة: أنه رأى حمارا وحشيا فعقره، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "هل معكم من لحمه شيء؟ " قال: معنا رجله، فأخذها فأكلها. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ انہوں نے وحشی گدھے کو دیکھا تو اسے ہلاک کردیا ۱؎تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا اس کا کچھ گوشت تمہارے پاس ہے،عرض کیا ہمارے پاس اس کا پاؤں ہے حضور نے قبول فرمایا اور کھایا۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس کا شکار کرلیا۔وحشی گدھا یعنی نیل گائے بالاتفاق حلال ہے ہر جگہ شکار کیا جاتا ہے اور کھایا جاتا ہے گھوڑے کی طرح ہوتا ہے یوں ہی جنگلوں میں پایاجاتاہے۔
۲
؎حضرت ابوقتادہ نے تو پوچھا تھا کہ کیا یہ حلال ہے حضور انورنے جواب عطا فرمایا کہ اسے کھا کر دکھادیا،یہ جواب قوی جواب سے زیادہ قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4108