Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4116

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَيْمُوْنَةَ: أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ فَمَاتَتْ فَسُئِلَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَلْقُوْهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوْهُ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن ميمونة: أن فأرة وقعت في سمن فماتت فسئل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "ألقوها وما حولها وكلوه". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت میمونہ سے کہ گھی میں چوہا گر کرمرگیا تو ۱؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس کے متعلق پوچھا گیا فرمایا اس کو اور اس کے آس پاس کو گرا دو اور اسی گھی کو کھاؤ۲؎( بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎گھی جما ہوا تھا جیسا کہ آئندہ مضمون میں معلوم ہورہا ہے۔
۲
؎یعنی اگر جمے ہوئے گھی میں چوہا مرجائے تو اس کے میت جسم سے متصل جو گھی ہے وہ نجس ہوگیا ہے،باقی پاک ہے اس نجس کو پھینک دو باقی کھالو۔وہ نجس گھی کھانے کے سوا دوسرے استعمال میں لاسکتے ہیں جیسے اس سے چراغ روشن کرسکتے ہیں،کشتی میں مل سکتے ہیں،پتلے تیل میں اگر چوہا مرجائے تو اسے نہ کھایا جائے،ہاں وہ چند طریقوں سے پاک ہوسکتاہے جن میں سے آسان طریقہ یہ ہے کہ نجس گھی یا تیل کو پاک گھی کے ساتھ اس طرح بہا دیا جائے کہ کوئی آگے پیچھے نہ ہو ساتھ بہے،اس کی تحقیق شامی میں دیکھو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4116