Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4121

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ كُتِبَتْ لَهٗ مِئَةُ حَسَنَةٍ، وَفِي الثَّانِيَةِ دُوْنَ ذٰلِكَ، وَفِي الثَّالِثَة دُوْنَ ذٰلِكَ"رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من قتل وزغا في أول ضربة كتبت له مئة حسنة، وفي الثانية دون ذلك، وفي الثالثة دون ذلك"رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو کوئی گرگٹ کو پہلی چوٹ میں مار دے تو اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دوسری چوٹ میں اس سے کم اور تیسری چوٹ میں اس سے کم ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ گرگٹ کو جلد مار دینے کی رغبت دینا زور کی چوٹ لگانا کہ ایک ہی چوٹ میں لوٹ پوٹ ہوجائے ہلکی چوٹ میں ممکن ہے کہ بھاگ جائے۔احمد و ابن حبان نے بروایت حضرت ابن مسعود مرفوعًا نقل فرمایا کہ جو سانپ کو مارے اس کو سات نیکیاں ہیں اور جوگرگٹ کو مارے تو اسے ایک نیکی۔طبرانی نے بروایت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا)مرفوعًا نقل فرمایا کہ جوگرگٹ کو ماردے اللہ تعالٰی اس کے سات گناہ معاف فرمائے گا۔(مرقات)بہرحال اس کا قتل ثواب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4121