Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4114

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: غَزَوْتُ جَيْشَ الْخَبَطِ وَأُمِّرَ عَلَيْنَا أَبُوْ عُبَيْدَةَ فَجُعْنَا جُوْعًا شَدِيدًا، فَأَلْقَى الْبَحْرُ حُوْتًا مَيَّتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهٗ يُقَالُ لَهُ: الْعَنْبَرُ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ،فَأَخَذَ أَبَو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهٖ فَمَرَّ الرَّاكِبُ تَحْتَهٗ، فَلَمَّا قَدِمْنَا ذَكَرْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "كُلُوْا رِزْقًا أَخْرَجَهُ اللّٰهُ إِلَيْكُمْ وَأَطْعِمُوْنَا إِنْ كَانَ مَعَكُمْ" قَالَ: فَأَرْسَلْنَا إِلَى رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ فَأَكَلَهٗ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن جابر قال: غزوت جيش الخبط وأمر علينا أبو عبيدة فجعنا جوعا شديدا، فألقى البحر حوتا ميتا لم نر مثله يقال له: العنبر، فأكلنا منه نصف شهر،فأخذ أبو عبيدة عظما من عظامه فمر الراكب تحته، فلما قدمنا ذكرنا للنبي صلى الله عليه وسلم فقال: "كلوا رزقا أخرجه الله إليكم وأطعمونا إن كان معكم" قال: فأرسلنا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم منه فأكله. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں میں نے پتوں والے لشکر میں غزوہ کیا ۱؎اور ابوعبیدہ امیر بنائے گئے تو ہم سخت بھوکے ہوگئے پھر دریا نے ایسی مری مچھلی پھینکی کہ اس جیسی دیکھی نہ گئی۲؎جسے عنبر کہا جاتا تھا ہم نے اس میں سے آدھا ماہ کھایا۳؎پھر ابوعبیدہ نے اس کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی لی تو سوار اس کے نیچے سےگزر گیا۴؎پھر جب ہم آئے تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے ذکر کیا فرمایا کھاؤ وہ روزی جو اللہ نے تمہاری طرف ظاہر کی اور ہم کو بھی کھلاؤ اگر تمہارے پاس ہو،فرماتے ہیں پھر ہم نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اس سے کھایا۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خبطکے معنی ہیں درختوں کے پتے،چونکہ اس غزوہ میں حضرات صحابہ نے بھوک کی وجہ سے پتے کھائے تھے اس لیے اسے غزوہ خبط بھی کہتے ہیں اور ان غازیوں کے لشکر کوجیش خبط،یہ غزوہ ۶ھ؁ ∞ میں صلح حدیبیہ سے پہلے ہوا۔(اشعہ)
۲
؎اس طرح کہ دریا نے مچھلی کنارہ پرپھینکی وہ خشکی میں آکر مرگئی ورنہ جو مچھلی دریا میں مرکر تر جائے وہ حرام ہے لہذا حدیث واضح ہے۔وہ جو حدیث پاک میں ہے کہ دریا کا میتہ حلال ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ جو دریا کی وجہ سے مرجائے یعنی پانی نہ ملنے سے جو پانی میں مرکر تیر جائے وہ دریا کا مردہ نہیں بلکہ کسی بیماری کی مردہ ہے۔
۳
؎یعنی وہاں رہ کر پندرہ دن کھائی اور واپسی میں راستہ میں پندرہ دن یا مدینہ منورہ پہنچ کر پندرہ دن تک کھاتے رہے لہذا یہ حدیث اس روایت کے خلاف نہیں جس میں ایک ماہ تک کھانے کا ذکر ہے۔اس مچھلی کو عنبر اس لیے کہتے ہوں گے کہ اس سے عنبر نکلتا ہے یا اس قسم کی مچھلی کا نام عنبر ہے۔(اشعہ)
۴
؎بعض روایات میں ہے کہ حضرت ابوعبیدہ نے سب سے اونچا اونٹ اس کی ہڈی کے نیچے سے گزارا تو وہ اونٹ اس ہڈی کے نیچے سے گزر گیا۔
۵
؎اس عمل شریف سے مچھلی کی حلت عملی طور پر دکھادی گئی گویا قولی فتویٰ بھی دے دیا گیا اور عملی فتویٰ بھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4114