Main Icon

باب: اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4107

شکار اور ذبیحوں کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهٰى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ، وَأَذِنَ فِي لُحُوْمِ الْخَيْلِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن جابر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى يوم خيبر عن لحوم الحمر الأهلية، وأذن في لحوم الخيل. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشتوں سے منع فرمایا ۱؎اور گھوڑوں کے گوشتوں کی اجازت دی۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی شروع اسلام میں گدھا پالتو حلال تھا،غزوہ خیبر میں قیامت تک کے لیے حرام کردیا۔اس خیبر میں عورتوں سے متعہ حرام ہوا اس کی حرمت بھی تاقیامت ہے۔
۲
؎گھوڑے کی حلت میں فقہاء کا اختلاف ہے۔امام شافعی،احمد اور صاحبین کے نزدیک حلال ہے،یہ حدیث حلال فرمانے والوں کی دلیل ہے۔امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل وہ آیت کریمہ ہے جو پچھلی حدیث میں ہم نے عرض کی کہ رب تعالٰی نے گدھا،خچر، گھوڑا ان تینوں کو جمع فرما کر فرمایا"لِتَرْکَبُوۡھَا وَزِیۡنَۃً"کہ یہ تینوں جانور سواری اور زینت کے لیے پیدا فرمائے۔ معلوم ہوا کہ ان تینوں میں سے کوئی کھانے کے لیے نہیں مگر چونکہ گھوڑے کی حرمت شرافت وکرامت کی بناء پر ہے اس لیے اس کا جھوٹا پاک ہے جیسے انسان کہ اس کا گوشت حرام مگر جھوٹا پاک،نیز ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ نے حصرت خالد ابن ولید سے روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے گھوڑے،خچر اورگدھے کے گوشتوں سے منع فرمایا،نیز نسائی شریف نے حضرت سلمہ ابن نفیل سکونی سے روایت کی کہ حضور نے گھوڑے کو ذلیل کرنے اور اس پر ذلت سے بوجھ لادنے سے منع فرمایا۔
اس حدیث کے چند جواب دیئے:ایک یہ کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس کی ناسخ وہ ہی حدیث خالد ہے جو ابھی عرض کی گئی۔دوسرے یہ کہ گھوڑے کے متعلق حلت و حرمت دونوں کی روایات ہیں اور جب حلت و حرمت میں تعارض ہو تو حرمت کو ترجیح ہوتی ہے۔ تیسرے یہ کہ یہاں
اذنبمعنیرخصہے بلکہ بعض روایات میںرخصہی ہے لہذا مطلب یہ ہوا کہ غزوہ خیبر میں ایک ضرورت کی وجہ سے گھوڑا کھانے کی اجازت دی یہ اجازت خصوصی تھی۔چوتھے یہ کہ اگر گھوڑا گائے بھینس کی طرح حلال ہوتا تو اس کی قربانی بھی جائز ہوتی، حالانکہ اس کی قربانی کسی نے جائز نہ کی۔پانچویں یہ کہ حضور اور خلفاء راشدین سے گھوڑا کھانا کبھی ثابت نہیں۔خیال رہے کہ پہلے گھوڑا وحشی جانور تھا،حضرت اسمعیل علیہ السلام نے سب سے پہلے اس پر سواری کی جب سے یہ جانور پالتو ہوا۔(مرقات و اشعہ)بہرحال گھوڑے کے متعلق مذہب امام اعظم میں احتیاط ہے اور باقی مذاہب میں گنجائش۔خیال رہے کہ صحابہ کرام میں سواء حضرت ابن عباس کے کوئی صحابی گدھے کی حلت کے قائل نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 4107